خواجہ محمدفاروق
ہر مشکل اور کٹھن وقت میں اوور سیز پاکستانیوں نے ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا اورپاکستان سے اپنی محبت کا اظہارکرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کوسہارادیا۔ اوور سیز پاکستانیوں نے ہمیشہ افواج پاکستان سے محبت اور پاکستانیت کا ثبوت دیا۔وورسیز پاکستانیوں کی خدمات کے اعتراف میں تاریخ میں پہلی بار دو روزہ ’’اوورسیز پاکستانیز کنونشن‘‘ ہوا، جس میں 80 ممالک سے آئے ہوئے 1200سے زائد اوورسیز پاکستانی شریک ہوئے۔ شرکاء کو ریاستی مہمان کا درجہ دے کر پروٹوکول دیاگیا۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک، قومی ترانے اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔ کنونشن میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف ، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزراء، بیرون ملک تعینات پاکستانی سفراء اور مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں۔اوورسیز پاکستانیز فاو?نڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا بھی شریک ہوئے اور خطاب بھی کیا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیراور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا۔اس اہم موقع پر اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات اور ملکی معیشت میں ان کے کردار کو سراہا گیا، جب کہ کنونشن کے ذریعے ان کے مسائل اور تجاویز کو بھی سنا گیا۔امریکہ سے خصوصی طور آئے ہوئیممتازکشمیری رہنما و صحافی خواجہ فاروق نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیرکی موجودگی میں اپنے خیالات کااظہارکیا اورکہاکہ قائداعظم کے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔کشمیریوں کوحق خودارادیت دلانے کیلئیمسئلہ کشمیر کونمایاں طور پرہرفورم پراجاگرکیاجائے۔ پوری امید ہے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں کشمیر جلد آزا د ہوکر پاکستان کا حصہ بنے گا۔خواجہ فاروق نے کہاکہ نیویارک سے پاکستان پی آئی اے کی پروازیں چلائی جائیں ،بیرون ممالک سے موبائل فون لانے پراوورسیزپاکستانیوںپر ٹیکس ختم کیاجائے۔ممتازکشمیری رہنما خواجہ فاروق کی گفتگوکے بعد آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنی تقریرمیں کشمیر کی آزادی کے لئے اپنے پورے عزم کا اظہار کیا۔کنونشن میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سیزبردست رسپانس ملا۔ خطاب کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ پاکستانی امریکن خواجہ محمد فاروق نے چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کی تقریر کے دوران کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا دیا جس سے پوراہال کشمیر بنے گا پاکستان سے گونجتا رہا، کشمیر پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف جذباتی نظر آئے اور کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، آرمی چیف نے کہا کہ ہم پاکستان کو اس مقام پر لے جانا چاہتے ہیں جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح ? نے دیکھا تھا،غزہ پر بات کرتے ہوئے سپہ سالار نے کہا کہ پاکستانیوں کا دل ہمیشہ غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آج بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کویقین دلاتے ہیں کہ ان کیلئے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ آپ صرف پاکستان کے سفیر ہی نہیں بلکہ پاکستان کی وہ روشنی ہیں جو پورے اقوام عالم پر پڑتی ہے، جو لوگ برین ڈرین کا بیانیہ بناتے ہیں، وہ جان لیں کہ یہ برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین ہے اور بیرون ملک پاکستانی اس کی عمدہ ترین مثال ہیں، آپ سب نے پاکستان کی کہانی اپنی اگلی نسل کو سنانی ہے، وہ کہانی جس کی بنیاد پر ہمارے آباو?اجداد نے پاکستان حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے بہا وسائل سے نوازا ہے جس پر ہمیں ہر وقت شکر ادا کرنا چاہیے، ہم آج مل کر یہ واضح پیغام دے رہے ہیں ’جو پاکستان کی ترقی کے راستے میں حائل ہو گا ہم مل کر اْس رکاوٹ کو ہٹا دیں گے ‘۔ جب تک اس ملک کے عوام افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستانی عوام اور افواج پاکستان میں محبت، عزت و احترام کا رشتہ ہمیشہ سے قائم ہے اور قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی فخر سے کریں۔ جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کشمیر پر اپنے واضح موقف پر روشنی ڈالی،باہرسیموبائل فون لانے پر ٹیکس میں نرمی پر غورکابھی یقین دلایاجبکہ امریکہ میں پی آئی اے کی پروازوں سے متعلق کوئی بات نہ کی۔ جس سے پاکستانی امریکن کو مایوسی ہوئی تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے متعدد سہولیات اور مراعات کے حامل جامع پیکیج کا اعلان کیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل سے متعلقہ مقدمات نمٹانے کیلئے وفاق کی سطح پر خصوصی عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں، وفاقی چارٹرڈ یونیورسٹیوں کی 10 ہزار نشستوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کیلئے پانچ فیصد اور وفاق کے ڈگری تفویض کرنے والے اداروں میں بھی پانچ فیصد جبکہ میڈیکل کالجز میں 15 فیصد کوٹہ مختص ہو گا، میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی فزیبلٹی سٹڈی جلد شروع کی جائیگی اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کو مقدمات کے اندراج کیلئے پاکستانی سفارتخانوں میں ای۔فائلنگ کی سہولت 60 دن میں فراہم کر دی جائیگی، بیرونی دنیا میں اپنے شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے 15 سمندر پار پاکستانیوں اور سٹیٹ بینک کے ذریعے سب سے زیادہ سرمایہ پاکستان بھجوانے والے 15 سمندر پار پاکستانیوں کو ہر سال سول ایوارڈ دیا جائے گا، بیرون ملک مقیم پاکستانی خواتین کی پاکستان میں سرکاری ملازمتوں کیلئے عمر کی بالائی حد میں رعایت پانچ سال سے بڑھا کر سات سال کی جا رہی ہے۔ سمندر پار مقیم پاکستانی مادر وطن میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کریں، ان کو درپیش مسائل خود حل کروں گا۔کنونشن میں شریک اوورسیز کا کہنا تھا کہ اوورسیزپاکستانی حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، امید کرتے ہیں حکومتی اقدامات اور پالیسی سے اوور سیزپاکستانیوں کیلیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اوورسیزپاکستانیوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستانی بہتری کے لیے جو ہوسکا ہم کریں گے۔ اوورسیز کنونشن میں سمندر پار پاکستانیوں نے حیران کن بڑا مثبت رسپانس دیا۔ سمندر پار پاکستانیوں کے دل کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں۔ ملک سے دور رہ کر اس کی خدمت کرنے والے سیاسی وابستگیوں سے بالا تر اور حقیقت پسند ہو کر ترسیلات زر اپنے ملک بھجواتے ہیں اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ سٹیٹ بنک نے اپنے اعلامیے میں بتایا ہے کہ مارچ 2025ء میں ترسیلات زر کا حجم 4.1 ارب امریکی ڈالر رہا۔ مرکزی بنک کے مطابق ترسیلات زر میں سالانہ بنیاد پر 37.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔مارچ کے مہینے میں سب سے زیادہ رقم سعودی عرب سے98 کروڑ ڈالر بھجوائی گئی، دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات رہا جہاں سے پاکستانیوں نے 84 کروڑ ڈالرز سے زائد کی رقوم بھجوائیں۔ برطانیہ سے 68 کروڑ ڈالرز جبکہ امریکہ سے اکتالیس کروڑ ڈالرز کی ترسیلاتِ زر ایک ماہ کے دوران موصول ہوئیں۔ دوسری جانب کنونشن میں شریک لندن ،امریکہ سے آئے اوورسیزپاکستانیوں کا ایک ملاقات میں کہناتھاکہ یہ حقیقت ہے کہ بعض سفارتخانوں اور سفراء کا رویہ وہاں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ توہین آمیزاورنارواہوتاہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستانی سفارتخانوں سے متعدد شکایات ہوتی ہیں جن کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔اوور سیز پاکستانیوں کے پاکستان میں اکثر جا ئیداروں کے مسائل عرصہ دراز سے چلے آرہے ہیں جن کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔حکومت اور دفتر خارجہ کو تمام پاکستانی سفارتخانوں کو فوری ہدایات جاری کرنی چاہئیں کہ وہاں مقیم پاکستانیوں کو عزت دی جائے،احترام سے پیش آئیں ان کے مسائل کے حل میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔اوورسیز پاکستانیوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب وہ اپنے ملک واپس آتے ہیں تو ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ عملے کا رویہ نا مناسب ہوتاہے اس پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ملکی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوںکی اہمیت ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے۔ اس لئے حکومت انہیں خصوصی اہمیت دیاور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرے۔ اوور سیز پاکستانیوں نے ملکی معیشت کو سہارا دینے اور ترقی کے لئے ہمیشہ کھلے دل کیساتھ اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اس لئے اوورسیز پا کستانیوں کوسرمایہ کاری کرن…