تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک اور امریکی MQ-1 ڈرون کو مار گرایا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا اور بعد ازاں تباہ کردیا گیا۔ایرانی بیان میں ڈرون کو امریکی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعہ آبنائے ہرمز کے اوپر پیش آیا۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ڈرون کو نشانہ بنانے کے وقت، مقام کی مزید تفصیلات یا کارروائی کے دیگر پہلوؤں سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق امریکی جانب سے تاحال ایرانی دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ڈرون گرائے جانے کے دعوے اور واقعے کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔
اس راستے سے عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، جس کے باعث خطے میں کسی بھی فوجی واقعے کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے قریب یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث سمندری راستوں کی سکیورٹی اور تجارتی جہاز رانی سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں۔ایرانی حکام کی جانب سے ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم واقعے کے بارے میں مزید معلومات اور فریقین کے باضابطہ بیانات سامنے آنے کے بعد ہی اس کی مکمل صورتحال واضح ہوسکے گی۔