تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ساختہ MQ-9 ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی منگل کی صبح کی گئی، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ کارروائی کے دوران امریکی ساختہ MQ-9 ڈرون کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فورس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نوعیت کا یہ 54واں امریکی ڈرون ہے جسے اس نے تباہ کیا ہے۔تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، جبکہ امریکی حکام کا مؤقف بھی رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے باعث یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث خطے کی صورتِ حال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
رپورٹ کے مطابق، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کیں۔اسی کشیدہ صورتِ حال کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود یا بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کا تازہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں فوجی سرگرمیاں، بحری نقل و حرکت اور توانائی کی عالمی ترسیل پہلے ہی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
عالمی توانائی کی ترسیل پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے اثرات عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس علاقے میں پیش آنے والے واقعات کو عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔