خواتین ، بچے اور بچیوں سے جنسی درندگی کے 1164مقدمات

لاہور(کرائم رپورٹر)شہر میں خواتین ، بچے اور بچیوں سے جنسی درندگی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ درندوں نے شہر میں خواتین ، بچیوں اور بچوں میں جینا محال کر دیا ، رواں سال کے 9ماہ میں لاہور کی چھ ڈویژنڑ میں خواتین ، بچے اور بچیوں سے جنسی درندگی کے 1164مقدمات ، پولیس ریکارڈ کے مطابق خواتین سے جنسی درندگی کے واقعات میں صدرڈویژن 154مقدمات کے ساتھ پہلے نمبر پر ،کینٹ ڈویژن 138مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر ،ماڈل ٹائون ڈویژن 132مقدمات کے ساتھ تیسرے نمبر پر،سٹی ڈویژن 74مقدمات کے ساتھ چوتھے، اقبال ٹائون ڈویژن 64مقدمات کے ساتھ پانچویں نمبر پر اور سول لائن ڈویژن 52مقدمات کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا جبکہ اجتماتی جنسی درندگی کے واقعات میں کینٹ ڈویژن 21مقدمات کے ساتھ پہلے نمبر ، صدرڈویژن 18مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر پر، ماڈل ٹائون اور سٹی ڈویژن 12,12مقدمات کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پرناصر اقبال ٹائون ڈویژن 11مقدمات کے ساتھ پانچویں نمبر پر ،سول لائن ڈویژن 6مقدمات کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا ،۔اسی طرح بچوں سے بد فعلی کے واقعات میں کینٹ ڈویژن 139مقدمات کے ساتھ سرفہرست، ماڈل ٹائون ڈویژن 90مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر پرصدرڈویژن 84مقدمات کے ساتھ تیسرے نمبر ،سٹی ڈویژن 70مقدمات کے ساتھ چوتھے اقبال ٹائون ڈویژن 56مقدمات کے ساتھ پانچویں اور سول لائن ڈویژن 31مقدمات کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا زرائع کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن ونگ لاہور مذکورہ مقدمات کے ملزمان کو پکڑنے میں ناکام رہا ہے جنسی درندگی کا شکار خواتین ، بچے اور بچیاں وزیراعلیٰ پنجاب کے سخت نوٹس کے منتظر ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈویژنل ایس پیز انویسٹی گیشنز کی عدم دلچسپی کے باعث مذکروہ مقدمات کی تفتیش سست روی کا شکار ہے