لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے سب انسپکٹرز کی بھرتی میں عمر کی رعایت کیلئے دائر 80 سے زائد درخواستیں خارج کر دیں، 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ عمر میں رعایت دینا حکومت کا پالیسی معاملہ ہے اور عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی، بھرتی کے لیے مقررہ عمر کی حد قانونی اور انتظامی اصولوں کے مطابق ہے ، اس میں تبدیلی عدالت کا اختیار نہیں، عدالت صرف اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کوئی بنیادی حق متاثر ہو،درخواست گزار عدالت کو کوئی معقول وجہ یا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے کہ عدالت اس پالیسی میں مداخلت کرے۔عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ عام سول سرونٹ قانون کے تحت عمر میں رعایت کا اطلاق پولیس فورس پر نہیں ہوتا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے،عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے عدالتی نظیر تصور کیا جائے گا۔