26ویں آئینی ترمیم چیف جسٹس حکم دینگے تو ہم یہ ٹوپی اتار کر دوسری پہن لیں گے جسٹس جمال مندوخیل

سوال یہ ہے  ایک غیر آئینی بینچ کے جج کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جائے:جسٹس امین الدین خان‘آپ کہتے ہیں یہ بینچ نہیں سن سکتا ،یہ بتا دیں فل کورٹ کا آرڈر کون کرے گا، فل کورٹ کون بنائے گا:جسٹس جمال مندوخیل کا سوال
 آپ نے کہا یہ 8رکنی بینچ 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار نہیں دے سکتا:جسٹس شاہد بلال‘میری معروضات ہیں  24 کے 24 ججوں پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے، یہ آئینی بینچ اس کیس کو نہیں سن سکتا:اکرم شیخ کے دلائل
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت آج  تک ملتوی کردی گئی تاہم بینچ ممبران کووکلاسے آئین وقانون کے مطابق دلائل کی جستجواور سوالات کرنے کے باوجوداب تک ہونے والی سماعت میں اس بات کاوکلاسے جواب نہیں مل سکاہے کہ آئینی بنچ میں زیرسماعت اس مقدمے کوآئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت عام فل کورٹ بنچ میں کس طرح سے بھجوایاجائے‘ حکم چیف جسٹس پاکستان کوجاری کیاجائے یاپھرججزکمیٹی کوجاری کیاجائے؟ اس کے ساتھ ساتھ فل کورٹ میں سارے ججزہی بیٹھ سکیں گے یاپھر26ویں آئینی ترمیم سے قبل کے ججزکوہی اس مقدمے کی سماعت کے لیے بیٹھناہوگا۔ آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہاہے کہ ابھی تک ایک بھی وکیل نے آئین کے مطابق دلائل نہیں دیے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ایک غیر آئینی بینچ کے جج کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جائے۔جسٹس جمال مندوخیل نے اکرم شیخ ایڈووکیٹ سے مخاطب ہوکر کہاکہ سوال ہے کہ ایک غیر آئینی بینچ کے جج کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جائے۔ پہلے تو ہم نے بنچ کا فیصلہ کرنا ہے،دنیا بھر کی باتیں کیں لیکن آئینی بنچ پر ایک بات نہیں کی،آپ کہتے ہیں یہ بنچ نہیں سن سکتا ، فرض کریں ہم نے آپ کی بات مان لی، ہم یہاں سے اٹھ کر فل کورٹ میں بیٹھ جائیں گے،یہ بتا دیں فل کورٹ کا آرڈر کون کرے گا، فل کورٹ کون بنائے گا۔چیف جسٹس حکم دینگے تو ہم یہ ٹوپی اتار کر دوسری پہن لیں گے۔ سپریم کورٹ آئینی بنچ میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس شاہد بلال نے کہاکہ آپ نے کہاکہ یہ 8رکنی بنچ 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار نہیں دے سکتا ،آپ کے مطابق وہ کونسا بنچ ہو گا جو یہ کام کر سکتا ہے؟وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ اس ترمیم کے حوالے سے فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرنا ہے،میرامقصدواضح ہے کہ میں بطوروکیل اورپاکستانی شہری کے چاہتاہوں کہ اب سارے ابہام ختم ہونے چاہئیں ہمیں قائداعظم اور دیگربانیان پاکستان کے فرمودات ،آئین پاکستان کے تحت ہی آگے بڑھناہوگامیں بین الاقوامی جرائدمیں پڑھتارہتاہوں ہماری عدلیہ بارے جوکچھ لکھاجاتاہے میں چاہتاہوں عدلیہ کی آزادیکے لیے پوری سپریم کورٹ کوبیٹھ کرفیصلہ کرناہوگا۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ ہمیں آپ فل بینچ کی تشکیل کے لیے کوئی آئینی راستہ بتائیں، ہم اپنے حلف کے پابند ہیں، ابھی تک ایک بھی وکیل نے آئین کے مطابق دلائل نہیں دیے، ایک صاحب نے تو یہ بھی کہا کہ آئین کو سائیڈ پر رکھ دیں۔اکرم شیخ نے کہا کہ آج کی میری التجا یہ ہے کہ آپ صاحبان حکمت و دانائی ہیں، آپ 8 دماغ اس تنازع کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔جسٹس امین الدین نے پوچھا کہ آپ کی رائے میں فل کورٹ کیا ہے؟ جس پر اکرم شیخ نے جواب دیا کہ یہ لاحاصل بحث ہے، میری معروضات ہیں کہ 24 کے 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے، یہ آئینی بینچ اس کیس کو نہیں سن سکتا۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اسی لیے سوال ہے کہ ایک غیر آئینی بینچ کے جج کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جائے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ بے شک 24 ججز ہوں لیکن وہ آئینی بینچ نہ کہلائے، سپریم کورٹ کہلائے؟اکرم شیخ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم ایک متنازع ترمیم ہے، کسی ڈکٹیٹر نے بھی آئین کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا، جتنا 26ویں ترمیم نے پہنچایا ہے، اس آئینی بینچ کے ججز کے پاس اس وقت دو عہدے ہیں، ایک عہدہ متنازع ہے، دوسرا نہیں، امید ہے کہ اللہ آپ کو اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی ہمت دے گا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اب معاملہ نیا ہے، آئینی بینچ بن چکا ہے، آپ نئے حالات کے مطابق دلائل دیں، آپ کہتے ہیں کہ یہ آئینی بینچ 26ویں ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا کیونکہ مفادات کا ٹکراو￿ ہوگا، دوسری جانب آپ کہتے ہیں 24 کے 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ بنایا جائے، کیا 24 کے 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ میں مفادات کا ٹکراو نہیں ہوگا؟ جس میں اس بینچ کے جج بھی شامل ہوں گے۔