سپریم کورٹ ججوںنے چاہتے نہ چاہتے 26ویں ترمیم کو تسلیم کرلیا جسٹس جمال مندوخیل

ان ججز کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے جن کی چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد ترقی ہوئی ہے: جسٹس مسرت ہلالی‘ّسماعت 13اکتوبر تک ملتوی
اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے26ویںآئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت  کے دوران ریمارکس دئیے ہیں  سپریم کورٹ ججز نے چاہتے نہ چاہتے چھبیسویں آئینی ترمیم کو تسلیم کرلیاہے۔سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے کی،سماعت کے دوران بلوچستان بار کے وکیل منیر اے ملک روسٹرم پر آئے۔جسٹس امین الدین نے منیر اے ملک سے کہا کہ وہ گزشتہ روز کراچی سے ویڈیو لنک پر کچھ کہنا چاہتے تھے مگر آواز ٹھیک سے سنائی نہیں دی۔ منیر اے ملک نے بتایا کہ ان کی لائیو اسٹریمنگ سے متعلق درخواست تھی، جس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ اب اس پر فیصلہ ہو چکا ہے، لہذا یہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے‘جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ موجودہ بینچ اپنے دائرہ اختیار پر کیسے فیصلہ کرے؟  آئین میں ترمیم سے قبل جانا پڑیگا، دیکھنا پڑیگا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کیوں ہوئی، ان ججز کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے جن کی چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد ترقی ہوئی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ ہم چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل کے ہیں، کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لا کر لگائے گئے ہیں؟ جوڈیشل کمیشن کے ہر اجلاس میں، میں نے اور چیف جسٹس نے مطالبہ کیا کہ آئینی بینچ میں تمام ججز کو شامل ہونا چاہیے، کیا آپ ایسی صورتحال میں مطمئن ہوں گے؟وکیل منیر اے ملک نے دلائل میں کہا کہ آئینی ہو یا ریگولر بینچ، کوئی فرق نہیں پڑتا، جوڈیشل اختیارات موجود ہیں۔بعدازاں کیس کی سماعت13اکتوبر تک ملتوی کردی گئی