سہیل آفریدی نے الیکشن کمیشن میں ذاتی حاضری سے استثنا کے لیے وکیل بھیج دیا

سہیل آفریدی نے الیکشن کمیشن میں ذاتی حاضری سے استثنا کے لیے وکیل بھیج دیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا، تاہم انہوں نے استثنا کی درخواست دی اور وکیل کے ذریعے پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔

 سماعت کے دوران وکیل علی بخاری نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کے پی کے نے مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی وقت میں ڈی آر او نے نوٹس جاری کیے ہیں اور ایک ہی وقت میں دو جگہ سے نوٹسز وصول ہو رہے ہیں، جس پر کمیشن کے رکن نے ریمارکس دیے کہ جو یہاں حاضر نہیں ہوں گے، وہ وہاں حاضر ہوں گے۔وکیل علی بخاری نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک اجلاس کی مصروفیت کے باعث حاضری نہیں دے سکے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے، مگر انہوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ ایک میٹنگ میں ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سہیل آفریدی ایک میٹنگ میں ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی تفصیل بھی فراہم کی۔سماعت کے دوران سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ این اے 18 ہری پور سے امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ امیدوار ہیں، اور ضابطہ اخلاق کے تحت کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر انتخابی مہم میں شرکت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے نے چمبہ، حویلیاں میں جلسہ کیا، جہاں انہوں نے خطاب کیا اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دیں۔ اس کے علاوہ، حلقہ میں امیدوار شہرناز عمر ایوب بھی مبینہ طور پر قصور وار پائی گئیں۔

وکیل علی بخاری نے استدلال کیا کہ کیا سہیل آفریدی کے خلاف یہ نوٹس بنتا ہے، کیونکہ انہوں نے خطاب ہری پور میں نہیں بلکہ ایبٹ آباد میں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے خسرے کے علاقے میں 3 ارب کا اسپتال دیا ہے، جس میں تضاد ہے یا نہیں، یہ غور طلب ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے حویلیاں میں خطاب کیا ہے۔ انہوں نے سماعت کے حکمنامہ جاری کرنے کا عندیہ دیا، اور بعد ازاں یہ فیصلہ کیا کہ آج کی سماعت ملتوی کردی جائے گی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عدم حاضری پر استثنا دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر کے خلاف بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا، اور سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔