لاہور ہائی کورٹ کا بڑا ریلیف، چوہدری پرویز الٰہی کی نیب حاضری سے استثنا کی درخواست منظور

لاہور ہائی کورٹ کا بڑا ریلیف، چوہدری پرویز الٰہی کی نیب حاضری سے استثنا کی درخواست منظور

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے نیب عدالت کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے اور انہیں ذاتی حاضری سے استثنا دے دیا گیا ہے۔

پرویز الٰہی کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس شہرام سرور اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ عدالت میں پرویز الٰہی کے وکلاء سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ اور عامر سعید راں پیش ہوئے۔وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ پرویز الٰہی ایک سینئر سیاستدان ہیں، اس وقت شدید علیل ہیں اور لاہور میں زیر علاج ہیں، اس لیے وہ ہر پیشی پر نیب عدالت میں ذاتی طور پر پیش نہیں ہو سکتے۔ وکلاء نے مزید بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے ان کی استثنا کی درخواست کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر خارج کر دیا۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا ایسی صورتحال میں ذاتی حاضری سے استثنا دینے میں کوئی قانونی رکاوٹ ہے؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ پرویز الٰہی کی صحت کی صورتحال ایسی نہیں کہ انہیں عدالت حاضری سے استثنا دیا جائے۔ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کی رٹ پٹیشن کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا اور نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔اس فیصلے کے بعد پرویز الٰہی کو نیب عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے وقتی ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔