پختونخوا حکومت پہلی سٹریٹ اکانومی قانون سازی کے لیے تیار

ایک لاکھ 4 ہزار ریڑھی بانوں کو ریاستی تحفظ کے دائرے میں شامل کیا جا رہا 
 بغیر نوٹس انسداد تجاوزات کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع ہونگی،ترجمان وزیر اعلیٰ 
پشاور(خصوصی رپورٹ)خیبر پختونخوا حکومت نے جمعرات کے روز پہلی سٹریٹ اکانومی قانون سازی کے لیے تیار کر لی۔وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور تر جمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کر لیا ہے ،کے پی کے پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں ریڑھی بانوں کے حقوق کو قانون کا مستقل حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک لاکھ چار ہزار سے زائد ریڑھی بانوں کو ریاستی تحفظ کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے، ریڑھی بانوں کی روزی پر اب کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکے گا۔ ترجمان نے کہا کہ 380 ارب روپے کی سٹریٹ اکانومی کو مکمل قانونی ڈھانچہ دے کر صوبائی حکومت نے تاریخ رقم کردی ہے، نئے قانون میں ہراسانی اور رشوت ستانی کو سنگین جرم قرار دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف بغیر نوٹس انسداد تجاوزات کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع ہونگی، نئے قانون میں ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، کریڈٹ، انشورنس اور ایمرجنسی سپورٹ تک رسائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ریاست مدینہ کے وڑن کے مطابق ہر شہری کو قانون کا مساوی تحفظ حاصل ہوگا۔ایوان میں پیشی سے قبل بل کو کابینہ منظوری کے لیے بھجوایا جا رہا ہے۔