امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق افسر جان کریاکو کے انکشافات پر مبنی ہے، جنہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیلی ایجنٹوں نے ایران میں سرگرم عمل افغان پناہ گزینوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا ہے۔
کریاکو کے مطابق، اسرائیلی حکام نے افغان پناہ گزینوں کو یہ ہدف دیا کہ وہ ایرانی فوجی اور حکومتی افسران کی نقل و حرکت، سرگرمیوں اور دیگر حساس معلومات کی اطلاع دیں۔اسرائیلی ایجنٹوں نے اس کام کے عوض ہر ایک افغان پناہ گزین کو ایک سو ڈالر دیے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو جاسوسی کے کام میں لگایا گیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے، اور حالیہ عرصے میں ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔یہ انکشافات اس تناظر میں اہم ہیں کیونکہ ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر جاسوسی کے لیے افغان پناہ گزینوں کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو خطے میں خفیہ کارروائیوں اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے پیچیدہ اور حساس پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔