برطانوی حکومت کا سیاسی پناہ گزینوں کے ٹیکسی استعمال پر پابندی کا اعلان

برطانوی حکومت کا سیاسی پناہ گزینوں کے ٹیکسی استعمال پر پابندی کا اعلان

برطانوی حکومت نے سیاسی پناہ گزینوں کے لیے ٹیکسی کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ نقل و حمل کے نظام میں بہتری لائی جا سکے اور حکومتی اخراجات کو کم کیا جا سکے۔

یہ پابندی فروری سے نافذ العمل ہوگی، اور اس کے تحت پناہ گزین میڈیکل اپوائنٹمنٹ کے لیے اب ٹیکسی استعمال نہیں کرسکیں گے، جب تک کہ حالت غیر معمولی نہ ہو۔حکومتی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض پناہ گزین طویل فاصلے کے سفر کے لیے ٹیکسی کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے حکومتی اضافی اخراجات ہوتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر، ایک پناہ گزین نے ڈاکٹر سے 250 میل کا سفر ٹیکسی سے کیا، اور اس پر ہوم آفس کو 600 پاؤنڈز ادا کرنے پڑے۔ یہ اخراجات حکومتی بجٹ پر بوجھ بن رہے ہیں، اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس طرح کے طویل سفر غیرضروری ہیں۔

حکومت کے مطابق، سالانہ 15.8 ملین پاؤنڈ اس نظام کے تحت پناہ گزینوں کی نقل و حمل کے لیے خرچ ہو رہے ہیں، اور اب اس نظام میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ ہوم سیکریٹری شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ، صرف غیرمعمولی حالات میں، جیسے دائمی بیماری، معذوری یا حاملہ خواتین، پناہ گزین ٹیکسی کا استعمال کرسکیں گے۔

مزید برآں، حکومت کا یہ بھی ارادہ ہے کہ ہر ہوٹل کو بند کر کے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جائے، تاکہ غیرضروری نقل و حمل کے ذرائع ختم ہوں اور نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے تحت، پناہ گزینوں کی سہولت کے لیے دیگر متبادل اور زیادہ کفایتی نقل و حمل کے طریقے اپنائے جائیں گے، تاکہ ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے حکومتی اخراجات میں کمی آئے۔