سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
زندگی کی متاعِ عزیزکیاہے؟روپیہ پیسہ،زروجواہر،زمینیں اورجائداد،منصب،جاہ وجلال،ناموری،واہ واہ،دادوتحسین،صلہ وستائش، بیوی،یاردوست ۔بچیعزیزواقربا،محبت کیاہے ....کیایہی ہے زندگی کی متاعِ عزیز!توپھرنظریہ کیاہے،اصول کیاہے،حق وصداقت کیاہے،دارورسن کیاہے،شہادت ،عشق کیاہے، بے غرضی کیاہے،جاں نثاری کیاہے، مرمٹنا کیاہے؟؟؟بتایئے پھریہ سب کیاہیں؟کسے کہتے ہیں متاع عزیز؟کیاانکارمتاعِ عزیزنہیں ہے؟
جبرکے سامنے انکار،فرعونیت کاانکار،صلہ کاانکار،سودے بازی سے انکار،دولتِ بے بہاکاانکار،باطل کاانکار،سرجھکانے سے انکار،ظلم وجبرکاانکار،رب کی حاکمیت کے سواسب کاانکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکارمتاعِ عزیزنہیں ہے توپھرکیاہے انکار؟انکاراوریکسرانکار،پورے شعورکے ساتھ انکار۔کوئی مصالحت نہیں ،بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مجسم انکار۔۔۔۔۔۔باطل کے سامنے،طاغوت کے سامنے،رب کے باغیوں کے سامنے،نفس پرستوں کے سامنے،دنیائے حرص وتحریص کے سامنے، دھوکے کے سامنے،بے وفائی کے سامنے،خدائی لہجے میں بات کرنے والوں کے سامنے۔۔۔۔۔۔انکاراوریکسرانکار۔۔۔۔۔۔پورے شعوراور پورے وجودکے ساتھ انکار۔بس انکار۔
دلیل چاہے کتنی بھی مضبوط ہو،رب کے سامنے کیاحیثیت رکھتی ہے!بس انکار،لیکن انکاراپنے نفس کوخوش کرنے کیلئے نہیں، نفس کوخوش کرنے کیلئیانکار انکارِابلیس ہے۔اپنے رب کیلئے انکار۔۔۔۔۔۔یہی ہے اصل اورکچھ نہیں۔ نہیں مانیں گے کسی کی بھی۔ کسی طاقت کی،کسی بھی نظام باطل کی ۔۔۔۔۔۔نہیں مانیں گے چاہے لاکھ دلیلیں دو۔بس مانیں گے توصرف رب اعلی کی،بس اسی کی اورکسی کی بھی نہیں۔ یہی توحیدہے اورہے کیا توحید! میرادین توشروع ہی انکارسے ہوتاہے یعنی لاسے۔پہلے انکارکی منزل ہے پھر تسلیم کی۔میں انکار کیے بغیر تسلیم کیسے کرسکتا ہوں!اگرمیں انکارنہ کروں اورتسلیم بھی کروں تویہ منافقت ہے،کھلاتضادہے جوقابلِ قبول نہیں۔ملاوٹ نہیں خالص درکارہے بالکل خالص۔۔۔۔۔۔چاہے ذرہ ہی ہو۔ ملاوٹ شدہ پہاڑدرکارنہیں ہے۔یہی ہے اخلاص اورکیاہے!
توحیدتویہ ہے کہ خداخودحشرمیں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے
انکارروحِ اسلام ہے۔انکارروحِ حسینیت ہے۔انکار۔۔۔۔۔۔جا،نہیں مانیں گے۔تمہارے دھوکے تمہیں مبارک،ہماراسچ ہمیں۔انکارلکھنے میں بہت آسان ہے۔پنج حرفی لفظ بہت آسان ہے لکھنا،کرنابہت مشکل ہے۔جان لیواہے،بہت نقصان دہ،بہت قربانی چاہتاہے۔خودسے بھی لڑناپڑتا ہے۔ اپناانکاربھی، نہیں اپنی بھی نہیں مانوں گا۔بہت مشکل ہے یہ بہت کٹھن منزل۔معرکہ خیروشرکیاہے؟معرکہ حق وباطل کیاہے ؟یہی توہے،حق کا ساتھ دیناخیر،باطل کاساتھ دیناشر۔رب کے سامنے تسلیم خیراورابلیس کاپیروکاربننا شر۔ معرکہ خیروشریہی ہے۔بس یہی ہے۔پورے عالم میں یہی کچھ ہوتاہے۔ہوتارہے گا۔نہیں رکے گایہ معرکہ۔کربلاکادرس کیاہے؟جنگِ بدرکیاہے؟معرکہ احدمیں دندانِ مبارک شہیدہوگئے،چچا حمزہ کے ٹکڑے کردیئے گئے،بلک بلک کررودیئے لیکن سرتشکرسے جھک گئے کہ یہی اللہ کی مرضی، جہادکیاہے؟یہی ہے بس۔سب کادرس ایک ہے:بس انکار۔
انکارکروتوجان سے گزرنا پڑتا ہے۔خاندان نثارکرناپڑتاہے۔سب کچھ قربان کرنا پڑتاہے۔آگ وخون میں نہاناپڑتاہے۔خا ک آلود ہوناپڑتا ہے۔ اپنی خواہشات کوذبح کرناپڑتا ہے۔ تیزدھارپرسے گزرناپڑتاہے۔لاشے اٹھانے پڑتے ہیں۔جب شعورکے ساتھ انکارہوتوہرلاشہ اٹھاتے ہوئے یقین بڑھتاہے۔پختگی آتی ہے۔ربِ اعلی کیلئے سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ پیداہوتاہے۔
انکارجتنی شدت اختیارکرتاچلاجائیانقلاب اسی شدت سے نمودارہوتاہیاورپھرہمارامسئلہ نتائج نہیں کارزارِخیروشرمیں اپنا کام سرانجام دیناہے۔ ایسے ویسے چونکہ چنانچہ لیکن ویکن نہیں،یکسرانکار۔رب پرکامل یقین کیساتھ باطل کاانکار۔طاغوت کاانکار۔خون رنگ لاتا ہے،پھرانقلاب آتا ہے ۔کب رکا تھامعرکہ حق وباطل!نہیں رکے گایہ معرکہ خیروشر۔ بس غالب وہی رہیں گے جواپنے رب کے ساتھ جڑے رہیں گے۔پورے یقین کے ساتھ،پوری سرشاری کے ساتھ۔ انکارروحِ دین ہے،باطل کاانکار۔طاغوت کی ہرشکل کاانکار،یکسرانکارکوئی مصالحت نہیں،بالکل بھی نہیں۔قربانی ہی قربانی،سرشاری ہی سرشاری!
سرشاری اسے ہی کہتے ہیں۔ہنستے کھیلتے لاشے اٹھانااورپھرآوازِبلندسے رب کی کبریائی بیان کرنا۔یہی ہے دین،اورہے ہی کیا! اسے کہتے ہیں اپنی نذرپوری کرنا ۔اپنے دعوے کی صداقت کومجسم کردینالیکن یہ ہے بہت مشکل،توفیق پرہے یہ۔جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اوررب سے التجاکرناکہ قبول کرلیجیے ہماری قربانی اورپھریقین کی منزل پرپہنچ کرپکارنا::کہہ دوبے شک میری نمازاورمیری قربانی اورمیراجینااورمیرا مرنا اللہ ہی کیلئیہے جوسارے جہانوں کاپالنے والاہے۔رب کیلئے خالص۔باطل ہمیشہ سے گھمنڈی ہوتاہے ، دھوکے کا شکار ۔
اس ساری تمہیدکے بعدجس پرعزم شخصیت کاچہرہ مبارک نظرآتاہے توبے اختیاردل سے ان کانام ِ نامی مصورِ پاکستان جناب علامہ اقبال کانکلتاہے جن کوخراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ہم سب آج یہاں موجودہیں۔میں کس منہ سے اپنے اس مرشدکاشکریہ اداکروں،جن کا کلام ہمیشہ مشکل وقت میں بھولاہواسبق یاددلادیتاہے۔جب بھی دل بہت بے چین ہوتاہیتوان کے کلام وفرمودات سے ہمیشہ کی طرح دانش وحکمت کے ایسے موتی جھڑتے ہیں کہ اداس روح تک سرشار ہوجاتی ہے اورہرمرتبہ تنگ دامنی کا معاملہ بھی آن کھڑاہوتا ہے۔ اب منوں مٹی تلے بادشاہی مسجد اور لاہور قلعہ کے وسط میں اللہ کے ہاں اپنی دائمی منزل پراپنی وفاداریوں کے صلے میں یقیناجنت میں بیٹھے اپنی جاودانی کامیابی پر مسرورہوں گے ۔
مجھے جب میرے بہت ہی محترم برادرم جناب حافظ عبدالباسط صاحب نیاس اہم کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ،کوئٹہ کے اس سرد موسم میں جناب حضرت علامہ اقبال سے محبت کرنے والے اقبال شناسوں کے جمع ہونے کی نویدسنائی گئی ،بتایاگیاکہ صدی کے اس نامور مجاہد آزادی کے اس وژن کو دوبارہ دہرانے کاتذکرہ ہوگا تویقین کریں کہ ایک عرصے کے بعد پھوٹتی سحراچھی لگی،صبح نورکی تازگی دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی،اورسجدہ شکر اداکیا۔یوں محسوس ہورہا تھاکہ روح کا ساراآلام دھل گیاہے اوراب روٹھے ہوئے الفاظ ایک دفعہ پھرایک قطار میں مسکراتے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں،پھرسے ہمدم،ہمدرداورغمگسار،بڑھ کرگلے ملنے کیلئے متمنی،جونہی میرے بیانئے نے محبت سے بازو پھیلائے فورابغیرکسی تاخیرکے برچھی کی طرح سینے میں اترگئے کہ آج اقبال کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور کیوں آج اقبال پرایسے گھناؤنے اور بے ہودہ الزامات لگانے کی جسارت ہو رہی ہے۔علامہ اقبال جنہوں نے اس کارزارمیں قدم رکھنے سے قبل اپنے رب سے یہ عہدکیا: کہو،میری نماز، میرے تمام مراسِم عبودیت، میراجینااورمیرامرنا،سب کچھ اللہ رب العالمین کیلئے ہے جس کاکوئی شریک نہیں۔
برصغیرکی تقسیم جیسی زمینی حقیقت کے بعداب تاریخ کوجھٹلانے یاان حقیقی خاکوں میں جھوٹ وبدنیتی کارنگ بھرکرتاریخی واقعات کی شکل بگاڑکرنئی نسل کوگمراہ کرکے اقبال سے بد ظن کرنے کی کوشش ایسے ہی ہیجیسے چاندپرتھوکاواپس اپنے منہ پرگرتاہے۔78سال گزرنے کے بعدایک مرتبہ پھراقبال پرنہروکے اس بے جاالزام کوکیوں دہرایاجارہاہے کہ ’’اقبال اپنی زندگی کے آخری دورمیں سوشلزم کے زیرِاثرتصورِپاکستان سے دستبردارہوگئے تھے۔کیاان الزامات سے زمینی حقائق بدل سکتے ہیں کہ دوبارہ ایسااکھنڈبھارت قائم جائے جہاں ہرروزکشمیراورگجرات جیسی قیامتیں مسلمانوں پر ڈھائی جائیں!
اقبال جنہوں نے پاکستان جیسی ریاست کاخواب دیکھا،ان کواس الزام میں آخرکیوں ملوث کیاجارہاہے؟اورآج بالخصوص مئی کی جنگ میں بدترین ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت میں ایسابے ڈھنگا راگ کیوں سنائی دے رہاہے؟پھربھارتی بہارانتخابات سے قبل تواترسے اس جھوٹ کوپھیلانے کی کیاوجہ ہے کہ سرحدپارٹی وی پربیٹھے دانشوروں کی سڑاندبھی بھڑک اٹھتی ہے۔آئیے تاریخ کے جھروکوں سے حقائق کی دنیامیں جھانکتے ہیں:(جاری ہے)