مغرب میں فکرِ اقبال ضرورت واہمیت

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یعنی اخلاقیات کے بغیرجمہوریت بھی ظلم بن جاتی ہے۔اقبال کے نزدیک سماج تبھی بنتاہے جب فردخودشناس ہو،اخلاقی بنیادوں پرقائم ہو،مقصدسے جڑاہو،اورروحانی طورپرزندہ ہو۔اس کے حصول کیلئے اقبالؒ ایسے چارستونوں کاذکرکرتے ہیں جن کی آج مغرب کو سخت ضرورت ہے۔مغرب میں خاندانی نظام کی شکست انسانی تاریخ کاایک بڑاسانحہ ہے۔ یساریت اوردہریت نے اخلاقیات کادامن کھینچ لیا۔سرمایہ داری نے انسان کوچیزوں کاغلام بنادیا۔ایسے میں اقبالؒ سماجی نظام کودوبارہ انسانی بنیادوں پراستوارکرنے کامنصوبہ دیتے ہیں ۔ان کے ہاں انسان محض اقتصادی اکائی نہیں،بلکہ ایک اخلاقی،روحانی اورسماجی وجودہے۔وہ اپنی قوم کوتومخاطب کرتے ہیں لیکن پیغام پوری انسانیت کیلئے دیتے ہیں:
نگاہِ بلند،سخن دلنواز،جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفرمیرِ کارواں کیلئے
یہ وہ معیارہے جس پرکسی بھی تہذیب کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے،مغربی تہذیب کوبھی اس کی اشدضرورت ہے۔اقبالؒ کایہ کارنامہ بھی حیران کن ہے کہ انہوں نے استعمارکے خلاف فکری مزاحمت اوربغاوت کابے لاگ تذکرہ کیا۔مغرب کی علمی دنیاکے سامنے کھڑے ہوکرمغرب ہی کی کمزوریوں کوبے نقاب کیا،مغرب میں اقبالؒ کی اہمیت کاایک پہلویہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسی آوازہیں جومغرب کے فکری استعمار کوچیلنج کرتی ہے مگردشمنی کے بغیر،نفرت کے بغیر،تلخی کے بغیر،سچائی اوروقارکے ساتھ، بلکہ تہذیبی وقار کے ساتھ۔ وہ کہتے ہیں:
 نہ ستاروں میں ہے پنہاں، نہ تقدیر میں ہے
جو ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ ہماری ہمت ہے
یہ پیغام صرف ایشیایاافریقاکے غلاموں کیلئے نہیں تھابلکہ یہ پیغام غلام قوموں کیلئے تحرک تھامگرآج مغرب میں بھی وہ قومیں جوسرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہیں،اس پیغام سے قوت حاصل کررہی ہیں۔اقبالؒ کی شاعری سے نئی قوت حاصل کر رہے ہیں۔
اقبالؒ کامغرب کے علمی حلقوں میں مقام مغربی علمی دنیاکی گواہی سے پتہ چل رہاہے۔کہیں بھی آپ جائیں،وہاں اقبالؒ کی فکر پرگفتگوہوتی ملے گی۔ یقینا یہ بات حیرت انگیزنہیں کہ آج آکسفورڈ،ہارورڈ،سوربون،برلن،ویانا،اورکیمبرج جیسے اداروں میں اقبالؒ پرتحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں،کورس پڑھائے جارہے ہیں،بلکہ ان کی شاعری کے تراجم مغرب کے کتاب گھروں میں جگہ پارہے ہیں۔برطانوی اسکالرریمونڈڈوسن نے کہاتھا:
Iqbal is the voice of Eastern revival.
جرمن فلسفی این میری شیمل نے کہا:
He is one of the few poets whose words seem to speak beyond centuries.
یہ آوازکوئی معمولی آوازنہیں،یہ وہ نغمہ ہے جوزمانوں کوعبورکرتاہے۔
اس میں کوئی حیرت نہیں۔اقبال نے یورپ کومحض دیکھانہیں،اس کے ذہن کوپڑھاتھا۔اس کے طاقتورپہلوں کوسراہااوراس کی کمزوریوں کوبے نقاب کیا۔انہوں نے کہا تھا:
میں یورپ کے چہرے سے حیرت زدہ تھا مگر اس کے دل سے غافل نہ ہوا۔یہی وجہ ہے کہ مغرب کے مفکرین اقبال کوایک ایسے نقادِتہذیب کے طورپردیکھتے ہیں جس نے انصاف سے کام لیا۔نہ غیرضروری تعریف کی نہ بے جاتنقید۔
اقبالؒ کواگرمستقبل کی سمت متعین کرنے والی آوازکہاجائے توبے جانہ ہوگا۔انسان کے پاس طاقت ہے مگرمنزل نہیں۔دنیانئے دور کے دہانے پرکھڑی ہے۔دنیامصنوعی ذہانت، جینومکس،روبوٹکس اورنیوکلیئرقوت کے دورمیں داخل ہوچکی ہے۔سوال یہ نہیں کہ انسان کیاکرسکتاہے،اصل سوال یہ ہے کہ کیاکرناچاہیے؟یہ وہ سوال ہے جس کاجواب مغرب ابھی تک تلاش نہیں کرسکامگراقبال ؒنے برسوں پہلے کہہ دیاتھا:
 عقل عیارہے،سوبھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملاہے،نہ زاہد،نہ حکیم
اقبالؒ عقل کوردنہیں کرتے،بلکہ عقل اورعشق کی ہم آہنگی چاہتے ہیں۔یعنی صرف عقل راستہ نہیں دکھاسکتی،روحانی شعور لازمی ہے۔اگرمغرب اقبالؒ کے اس توازن کوسمجھ لے تووہ نہ صرف اپنے روحانی بحران سے نکل سکتاہے بلکہ انسانیت کوبھی نئی جہت دے سکتاہے۔اقبالؒ کے نزدیک اصل تہذیب وہ ہے جس میں علم اورروح دونوں ہم آہنگ ہوں۔اگریہ پیغام مغرب سمجھ لے تووہ نہ صرف اپنے بحران سے نکل سکتاہے بلکہ انسانیت کوایک نئی سمت دے سکتاہے۔
اقبالؒ مغرب کو پانچ بڑی تعلیمات دیتے ہیں:
٭انسان کائنات کا مقصود ہے،انسان خداکی زمین پراس کانائب ہے کوئی  بے مقصدبھٹکاہوا ایٹم نہیں۔
٭مقصدیت کے بغیرآزادی تباہی اوراخلاقیات کے بغیرآزادی فریب بن جاتی ہے۔
٭سائنس ضرورت ہے مگرروح اس کی رہنماہو۔روحانی استحکام کے بغیرسائنس خطرناک ہے۔
٭اخلاقیات کے بغیرجمہوریت فریب ہے۔سرمایہ داری اورسوشلزم دونوں انسان کے بغیرادھورے ہیں۔سرمایہ داری کے بغیر سماجیت ظلم ہے،اور سماجیت کے بغیرآزادی غلامی
ہے۔
٭زندگی ارتقاکانام ہیحرکت،جستجواورمسلسل تخلیق،زندگی مسلسل کوشش،حرکت،جستجو،مسلسل ارتقا،اورمسلسل بلند پروازی کانام ہے۔
اقبالؒ فرماتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اوربھی ہیں
یہ مغرب کیلئے پیغام ہے کہ ترقی کاسفرختم نہیں ہوا،اسے صحیح سمت دیناباقی ہے۔یہ اسباق ہرتہذیب کودرکارہیں،مگرمغرب کو ان کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔اس لئے مغرب میں فکرِ اقبال کی اشد ضرورت جتنی آج ہے،اس سے قبل نہیں تھی اوریہ اعتراف مغرب کے علمی حلقوں میں کیاجارہاہے کہ:
مغرب ایک دوراہے پرہے۔اسے سائنس توملی،مگرسکون نہیں۔آزادی ملی،مگرتعلق نہ ملا۔دولت ملی،مگرمحبت نہ ملی۔طاقت ملی، مگرمقصدنہ ملا۔اقبال ؒاسی مقصدکانام ہیں۔وہ انسان کودوبارہ مرکزیت دیتے ہیں۔وہ روح کودوبارہ زندگی دیتے ہیں۔وہ تہذیب کو دوبارہ اخلاق دیتے ہیں۔وہ عقل وعشق کوہاتھوں میں ہاتھ دے کرآگے بڑھنے کی راہ دکھاتے ہیں ۔ان کے نزدیک:
ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اوربھی ہیں
یہ پیغام مغرب کوبتاتاہے کہ ترقی کاسفرختم نہیں ہوا،مگر اس کی سمت درست کرنی ضروری ہے۔
خواتین وحضرات!
اقبالؒ مشرق کے شاعرنہیںاقبالؒ کی فکرمحض مسلمانوں کی میراث نہیں،وہ انسانیت کے شاعرہیں۔ان کی نگاہ زمین کے کناروں تک محدودنہیں،آسمانوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ان کا دردعالمی ہے،ان کی نگاہ کائناتی،ان کاپیغام ازلی۔وقت آگیا ہے کہ مغرب اقبالؒ کومحض’’پیوٹ آف ایسٹ‘‘نہ کہے بلکہ’’آرکیٹیکٹ آف ہیومن‘‘کے طورپرپہچانے۔
آیئے آخر میں اقبال کے چند اشعار کے ساتھ اس گفتگو کو سمیٹتے ہیں:
کھول آنکھ،زمیں دیکھ،فلک دیکھ،فضادیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کوذرادیکھ
اس جلو بے پردہ کوپردوں میں چھپادیکھ
ایامِ جدائی کے سِتم دیکھ،جفادیکھ
ایک اورجگہ اقبال فرماتے ہیں:
 نیازمانہ،نئے صبح وشام پیداکر
خودی میں ڈوب کے ضربِ کلیم پیداکر
اگرہوعشق توہے کفربھی مسلمانی
نہ ہو تومردِمسلماں بھی کافروزندیق
مغرب آج انہی سچائیوں کامحتاج ہے،اوراقبال اسی عظیم سچائی کانام ہیں۔یہ سوچ زمین کی نہیں،آسمان کی بھی ہیاورشاید اسی لیے مغرب کوآج اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے 
(اقبال اکیڈمی لاہور کے زیر اہتمام اسپائرزکالج چونیاں میں صدارتی خطاب)