مغرب میں فکرِ اقبال ضرورت واہمیت

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
خواتین وحضرات
آج کی یہ نشست محض ایک علمی گفتگونہیں،ایک روحانی سفربھی ہے۔ہم یہاں جس شخصیت کی فکرکاچراغ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں وہ صدیوں کے اندھیروں میں روشنی بانٹنے والی ایسی آوازہے جس کے اشعارنے غلام قوموں کے سینوں میں حرارت بھردی،اورجس کے افکارنے مغربی مفکرین کے علمی ایوانوں میں سوالات کی نئی کونپلیں اگادیں۔یہ ایک شاعر، ایک مفکر،ایک مجاہدِفکروحقیقت،وہی مردِداناہے جسے دنیاڈاکٹرمحمداقبالؒ کے نام سے جانتی ہے۔, 
آج کی اس نشست میں ہم ایک ایسے مردِدانا،ایک ایسی روحِ تاباں،اورایک ایسے شاعرِحکیم کی فکری معنویت پرگفتگوکیلئے جمع ہوئے ہیں جس کاذکرمحض تاریخ کاحوالہ نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کافکری دستورہے۔ڈاکٹرمحمداقبال ؒوہ شاعرجس نے قوموں کے زوال میں امیدکے چراغ جلائے،تہذیبوں کی کھوکھلی بنیادوں کوہلاکررکھ دیا،اورانسان کے ضمیرمیں وہ صدائے بازگشت پیداکی جس کے نقوش ابھی تک مٹ نہیں سکے۔
اقبال ؒکی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اردویافارسی ادب کے بڑے شاعرہیں،بلکہ اس میں ہے کہ وہ فلسفے،تاریخ، مذہب،سیاست،تہذیب اورروحانیت کوایک وحدت میں پروکرایک ایسی ہمہ گیرآوازبن جاتے ہیں جومشرق اورمغرب دونوں کیلئے فکرکانیازاویہ پیش کرتی ہے۔اقبالؒ کی تحریریں ایک ایسی صداہیں جوانسان کے باطن میں چھپے ہوئے امکانات کوبیدار کرتی ہیں۔انہوں نے کہاتھا:
 ہزارخوف ہولیکن زباں ہودل کی رفیق
یہی رہاہے ازل سے قلندروں کاطریق
یہ صرف ایک شاعر کی للکارنہیں، یہ ایک تہذیب کی ازسرِنوتعمیرکاپیغام تھا۔
مغرب کے علمی ایوانوں میں فکرِاقبالؒ کی ضرورت کیوں ہے؟یہ سوال بظاہرسادہ اوراندرسے ایک تہذیبی بھونچال ہے۔اس کا جواب محض ادبی یافلسفیانہ نہیں،بلکہ انسانی تاریخ کے پورے تناظرمیں پوشیدہ ہے۔مغرب اپنی سائنس،ٹیکنالوجی اورسیاسی غلبے کے باوجودایک فکری خلا،ایک روحانی بیچینی،اورایک تہذیبی بیوزنی کاشکارہے۔ایسے میں اقبالؒ کی آواز کسی دور درازصحرا میں گونجنے والی بازگشت نہیں بلکہ ایک مینار نورہے جوانسان کواس کی اصل کی طرف بلاتاہے۔یہ سوال کہ مغرب میں فکرِاقبال کی ضرورت کیوں ہے؟بظاہرسادہ ہے،مگراس کے اندرپوری انسانی تاریخ کاشورپوشیدہ ہے۔اگریورپ کی تاریخ پرنگاہ دوڑائی جائے تووہ دوربھی آتاہے جب فکرِیونان اس کے کاندھوں پرسوارتھی،پھرمسیحی کلیسا نے اس پرحکمرانی کی،اورپھرسائنس نے مذہب کوگہری نیندسلادیا۔برطانوی استعماراپنے عروج پر،جرمنی فلسفے کے میدان میں سبقت لیے ہوئے، اورفرانس سیاسی افکارکی تجربہ گاہ بناہواتھا۔
اقبالؒ نے مغرب کے اس پورے فکری سفرکونہ صرف دیکھابلکہ اس کی روح میں جھانکا۔وہ جانتے تھے کہ مغرب کی ترقی اوراس کے زوال دونوں کے بیج اسی کی مادی فکرمیں چھپے ہیں ۔جب اقبال یورپ پہنچے تواس وقت یورپ صنعتی انقلاب کے نشے میں تھا۔یہاں انسان ایک مشین ہے اورروح ایک بے معنی اصطلاح۔یہاں زندگی کاپیمانہ منافع اورطاقت ہے، انسانیت نہیں۔ یہاں آزادی کانعرہ ہے،مگرروح قیدہے۔اس فضامیں اقبالؒ نے محض مغرب کی ظاہری ترقی نہیں دیکھی،اس کے باطن میں اتر گئے۔وہ لکھتے ہیں:
میں نے یورپ کی اصل روح کواس کے کتب خانوں میں نہیں،اس کے بازاروں میں دیکھاجہاں انسان کی قیمت اشیا سے بھی کم تھی۔ یہ ایک فلسفی کاتجزیہ ہے،محض سیاح کامشاہدہ نہیں۔اقبالؒ باربارکہتے ہیں کہ مغرب کی پوری تہذیب انسان کو کھوچکی ہے۔وہ انسان جس کے بارے میں قرآن کہتاہے کہ اللہ نے اسے زمین پراپنا نائب بنایا ہے۔اقبالؒ اس بحران کو یوں بیان کرتے ہیں:
 ٹھیک ہے تجھ کوپرستارِمکاں کچھ بھی نہیں
فکرِانساں ہے مگرتیری نگہبانی سے محروم
یہی وہ جگہ ہے جہاں اقبال مغرب کوایک نئی راہ دکھاتے ہیں،خودی،عشق،روحانی ارتقااورانسانی مرکزیت کے ذریعے سوال یہ ہے کہ مغرب میں اقبال کی ضرورت کیوںہے؟ اور یہی آج کاموضوع بھی ہے۔
مغرب کی موجودہ فکری حالت کو سمجھنے کیلئے تین نکات انتہائی اہم ہیں:
روحانی خلا (Spiritual Vacuum)
تہذیبی بے سمتی (Civilizational Confusion)
فرد کی تنہائی اور وجودی بحران (Existential Crisis)
ٹیکنالوجی نے انسان کے ہاتھ مضبوط کیے مگردل کمزورکردیا۔سائنس نے کائنات کوکھول دیامگرروح کوبندکردیا۔جمہوریت نے آزادی دے دی مگرمقصدنہیں دیا۔سرمایہ داری نے دولت بڑھادی مگرتعلق چھین لیا۔اقبال ؒنے اس صورتِ حال کویوں بیان کیا:
 نظرکوخیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضرکی
یہ صناعی مگرجھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
یہ وہ جملہ نہیں جومحض مشرقی شاعرکی تنقیدہویہ مغربی تہذیب کے اس اندرونی بحران کاتجزیہ ہے جسے آج خودامریکی اوریورپی مفکرین بھی مانتے ہیں کہ ان کیہاں آج ترقی ہے، سکون نہیں،دولت ہے،محبت نہیں،طاقت ہے،مقصدنہیں،آزادی ہے  روح نہیں۔اقبالؒ انہی کھوئے ہوئے خزانوں کانام ہیں۔اقبالؒ انسان کودوبارہ مرکزیت دیتے ہیں،روح کوجلادیتے ہیں،تہذیب کواخلاق دیتے ہیں،اورعقل وعشق کواتحادعطاکرتے ہیں۔اقبال ؒکے نزدیک یہ تمام بحران انسان کی گمشدگی کابحران ہیاوریہیں سے فکرِاقبال ؒکی مغرب میں ضرورت کے سفرکاآغازہوتاہے ۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ ہی خودکشی کرے گی
جوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا،ناپائدارہوگا
جب اقبال نے یہ شعرکہاتھاتویورپ پہلی جنگِ عظیم کے زخم بھررہاتھا۔آج جب مغرب سیاسی انتشار،تہذیبی تصادم،معاشرتی بے سمتی،اورنوجوانوں کی ذہنی تنہائی کے طوفان میں کھڑاہے،تواقبال ؒکے یہ اشعارایک پیش گوئی سے کم نہیں لگتے۔اقبالؒ یہاںروحانی تشنگی کاعلاج خودی سے کرتے ہیں:
مغرب مذہب سے دورہوکرایک ایسے صحرامیں کھڑاہے جہاں عقل توموجودہے مگردل گم ہے۔مذہب سے بیزاری نے انسان کوتنہاکردیاہے۔مغرب میں انسان کی روح پیاسی ہے ۔چرچ کے زوال نے مذہب کوکمزورکیااورفلسفہ اس کامتبادل نہ بن سکا۔نفسیات نے انسان کولیبارٹری کانمونہ بنادیااورآرٹ نے حقیقت سے گریزکی راہیں نکال لیں۔اس کے مقابلے میں اقبال کاتصورِخودی مغربی ذہن کیلئے ایک تازہ ہواکی لہرہے۔یہ وہ تصورہے جووجودیت کے سارے سوالوں کوایک دھڑکتے ہوئے جواب میں سمیٹ دیتاہے۔اقبالؒ اس پیاس کاواحدجواب رکھتے ہیں:
اقبالؒ کافلسفہ خودی،وہ روحانی مرکزہے جوانسان کواس کے رب سے جوڑکرایک زندہ وجودبناتاہے۔یہی وہ پیغام ہے جومغرب کے نوجوانوں،پروفیسروں،اورمفکروں کے کانوں میں نئی معنویت کے ساتھ پڑرہاہے کیونکہ جب انسان اپنی اصل کھودیتاہے تو پہلاسوال یہی ہوتاہے:میں کون ہوں؟اقبالؒ کہتے ہیں:
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیرسے پہلے
خدابندے سے خودپوچھے،بتاتیری رضاکیاہے
یہ شعرمغرب کے ان ذہنوں کیلئے نئی کائنات کادروازہ ہے جوآج عصبیت اوروجودیت کے بوجھ تل پس رہے ہیں۔اقبالؒ اس سماجی بحران کیلئے اخلاقی نظام کی طرف شدت سے توجہ دلاتے ہیں:اقبالؒ مغرب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہاں خاندانی نظام ٹوٹ چکا،نسلیں ایک دوسرے سے اجنبی ہوگئیں،اورانسان مشینوں کاساتھی بن گیا۔سرمایہ داری نے خاندان کوبازارکے اصولوں پرلا کھڑاکیا۔اقبالؒ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہیں اورخبردارکرتے ہیں:
 جلالِ پادشاہی ہوکہ جمہوری تماشا ہو
جداہودیں سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی
(جاری ہے)