امریکا نے بھارتی تاجر گوتم اڈانی پر فراڈ اور رشوت ستانی کے الزامات عائد کر دیے

امریکا نے بھارتی تاجر گوتم اڈانی پر فراڈ اور رشوت ستانی کے الزامات عائد کر دیے

ویب ڈیسک:امریکا نے بھارتی ارب پتی تاجر گوتم اڈانی پر فراڈ اور رشوت ستانی کے الزامات عائد کر دیے ہیں، جس سے ان کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

 گوتم اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں اور حکومتی حکام کو دھوکہ دہی اور رشوت دے کر مالی فوائد حاصل کیے۔ ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے 26.5 کروڑ ڈالر کی رشوت دی اور فراڈ کے ذریعے اپنے کاروباری مفادات کو بڑھایا۔امریکی پراسیکیوٹرز نے گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے، ساگر اڈانی کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے۔ ان دونوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ انہیں بھارت میں گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔ تاہم، اڈانی گروپ کی طرف سے ابھی تک اس کیس پر کوئی عوامی بیان نہیں آیا ہے۔

گوتم اڈانی بھارت کے ایک بڑے کاروباری گروپ اڈانی گروپ کے چیئرمین ہیں اور ان کے کاروبار کی وسیع پیمانے پر موجودگی ہے، جس میں توانائی، بندرگاہوں اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔ اڈانی کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے کاروباری مفادات کے لیے مودی حکومت سے فائدہ اٹھایا۔ اڈانی نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں سیاسی نوعیت کا قرار دیا ہے۔گوتم اڈانی اور ان کے گروپ کی جانب سے ان الزامات کے بارے میں کوئی ردعمل یا وضاحت نہیں آئی، تاہم اس کیس سے ان کے کاروبار اور شہرت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً جب کہ امریکا میں قانونی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔