امریکی ریگولیٹرز کا بھارتی حکام پر اڈانی کو سمن نہ پہنچانے کا الزام

امریکی ریگولیٹرز کا بھارتی حکام پر اڈانی کو سمن نہ پہنچانے کا الزام

نیویارک کی مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف جاری قانونی کارروائی مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔

 پس منظر:
مقدمہ 22 نومبر 2024 کو شروع ہوا، جس میں گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر افراد پر 2020 سے 2024 تک رشوت اور فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے۔الزامات کے مطابق اڈانی گروپ نے بھارتی ریاستوں کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے سولر پاور کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی ادائیگیاں کیں اور امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔استغاثہ کے مطابق تقریباً 265 ملین ڈالر بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت کے طور پر دیے گئے تاکہ منافع بخش منصوبے حاصل کیے جا سکیں۔اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
 عدالتی کارروائی میں تاخیر کی وجوہات:
سمن کی ترسیل میں رکاوٹیں:
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے عدالت میں 11 اگست کو جمع کرائی گئی تازہ ترین رپورٹ میں کہا کہ بھارتی حکام تاحال اڈانی اور ان کے قریبی ساتھیوں کو باضابطہ سمن نہیں پہنچا سکے۔
بین الاقوامی قانونی تقاضے:
رپورٹ کے مطابق سمن کی ترسیل میں رکاوٹیں ’ہیگ سروس کنونشن‘ کے تحت پیدا ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تعاون کے عمل میں سست روی ہو رہی ہے۔
بھارتی وزارت قانون و انصاف کی شمولیت:

فروری 2025 میں امریکی حکومت نے بھارتی وزارت سے مدد طلب کی، لیکن چار ماہ گزرنے کے باوجود سمن کی ترسیل نہیں ہو سکی۔وزارت نے معاملہ احمد آباد، گجرات کی عدالت کو بھیج دیا، مگر تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا اڈانی کو سمن جاری ہوا یا نہیں۔
SEC کی کوششیں:
امریکی ریگولیٹر نے مقدمے کی پیش رفت کے لیے مسلسل کوششیں کیں، لیکن بین الاقوامی تعاون کی کمی کی وجہ سے کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
 اہم نکات:
مقدمہ امریکی عدالت میں سول الزامات پر مبنی ہے، جس میں رشوت اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات شامل ہیں۔اڈانی گروپ نے ہمیشہ الزامات کی تردید کی ہے اور مقدمے کو سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے تحت بنایا گیا قرار دیا ہے۔تاخیر کی بنیادی وجہ بین الاقوامی قانونی عمل اور بھارتی حکام کی غیر فعال شمولیت ہے۔