امریکا نے فلسطینیوں کی امداد فراہم کرنے والے 6 ادارے اور 5 افراد دہشتگردی کے الزامات میں بلیک لسٹ کر دیے

امریکا نے فلسطینیوں کی امداد فراہم کرنے والے 6 ادارے اور 5 افراد دہشتگردی کے الزامات میں بلیک لسٹ کر دیے

واشنگٹن / ویب ڈیسک: امریکی محکمہ خزانہ نے فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے والے 6 خیراتی اداروں اور 5 افراد پر دہشتگردی میں معاونت کے الزامات کے تحت سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

 ان اقدامات کے تحت ان تنظیموں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور ان کے تمام امریکی اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

الزامات اور موقف:
امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ادارے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہے تھے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق، "یہ تنظیمیں انسانی ہمدردی کی آڑ میں دہشتگرد عناصر کی مالی مدد کر رہی تھیں، جو کہ فلسطینی عوام کے مفاد کے خلاف ہے۔"

پابندی کا شکار ادارے:
الویام چیریٹیبل سوسائٹی (غزہ)
البرکہ چیریٹی ایسوسی ایشن (الجزائر)
فلسطین وقف فاؤنڈیشن (ترکیہ)
اسرا فاؤنڈیشن (نیدرلینڈز)
ادمیر (مقبوضہ مغربی کنارہ)
لا کپولا دی اورو (اٹلی)
متاثرہ افراد:
محمد براہیمی (الجزائر)
ذکی عبداللہ ابراہیم عراروی (ترکیہ)
امین غازی ابوراشد (نیدرلینڈز)
اسرا ابوراشد (نیدرلینڈز)
محمد حنون (اٹلی)
امریکی بیان:
محکمہ خزانہ نے کہا کہ یہ پابندیاں سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ رویے کی اصلاح کے لیے لگائی گئی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا:"اگر کسی نے ان پابندیوں کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔"
پس منظر:
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطین میں جاری انسانی بحران پر عالمی برادری کی توجہ مرکوز ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے فلسطینی عوام کی زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے، جب کہ امریکا کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی مالی معاونت روکنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

ردعمل:
تاحال ان تنظیموں یا افراد کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض مبصرین اس فیصلے کو سیاسی اور جانبدارانہ قرار دے رہے ہیں۔یہ معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر انسانی امداد، فلسطینی کاز اور مغربی پالیسیوں کے درمیان تنازعہ کا باعث بن سکتا ہے۔