سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی خلاف 5 شکایات خارج کردیں

سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی خلاف 5 شکایات خارج کردیں

سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر پانچ شکایات کو متفقہ طور پر خارج کر دیا ہے۔

 یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی اعلامیے میں سامنے آیا، جس میں شکایات کی نوعیت اور ان پر کونسل کے فیصلوں کی وضاحت بھی شامل ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت منعقد ہوا، جس کی صدارت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بطور چیئرمین خود کی۔ اجلاس میں مجموعی طور پر مختلف شکایات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے پانچ شکایات چیف جسٹس کے خلاف بھی شامل تھیں۔اعلامیے کے مطابق تمام پانچ شکایات کو تفصیلی غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر قابلِ سماعت نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا۔ کونسل نے واضح کیا کہ ان شکایات میں ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں تھی جو مزید کارروائی یا انکوائری کا جواز فراہم کرتی۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسی اجلاس میں مجموعی طور پر دیگر شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں سے کئی کو خارج جبکہ بعض کو مزید کارروائی کے لیے موخر کیا گیا۔یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف بدعنوانی یا مس کنڈکٹ سے متعلق شکایات کی جانچ کا آئینی فورم ہے، جو کسی بھی جج کے خلاف الزامات کی ابتدائی جانچ کے بعد فیصلہ کرتی ہے کہ معاملہ مزید انکوائری کے قابل ہے یا نہیں۔اس فیصلے کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف تمام پانچ شکایات ختم ہو گئی ہیں، اور انہیں مزید کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہو گیا ہے۔