اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔
اس اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی، بیرسٹر گوہر تاخیر سے پہنچے۔واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے رکن اور پی ٹی آئی کے سینیٹر، بیرسٹر علی ظفر نے گزشتہ روز چیف جسٹس کو ایک خط میں آج کا اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کے فیصلے تک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کیا جائے۔آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین و قانون کا تقاضا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کیا جائے۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر ججز، اٹارنی جنرل آف پاکستان، وفاقی وزیر قانون، اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ میں آئینی بینچوں کی تشکیل کے لیے ججز کی نامزدگی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، جوڈیشل کمیشن نے آئینی بینچ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی اور ججز کی تعیناتی کے رولز کے ڈرافٹ کا جائزہ لیا۔