اجلاس کا ایجنڈا
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں توسیع پر غور کیا جائے گا۔ موجودہ آئینی بینچ کی مدت 4 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے، جسے دو ماہ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ کا خط
اجلاس سے قبل سپریم کورٹ کے سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری کو خط لکھ کر ججز کی تعیناتی کے لیے مؤثر مکینزم بنانے پر زور دیا۔
خط کے اہم نکات:
آئینی بینچ میں ججز کی شمولیت کے لیے واضح معیار طے کیا جائے۔ججز کی تعیناتی کے فیصلوں میں ان کے آئینی تشریح والے فیصلوں کو پیمانے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ججز کی تعیناتی میں انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ لینے کی مخالفت، کیونکہ اس سے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔26ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ بنانے کی تجویز۔
جسٹس منصور علی شاہ کا مؤقف
انہوں نے کہا کہ ججز آئین کے تحفظ کا حلف لیتے ہیں، اور ان کی تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہئیں۔ جوڈیشل کمیشن میں ایگزیکٹو کی اکثریت پہلے ہی موجود ہے، اور انٹیلی جنس ایجنسی کے کردار سے کمیشن کی آئینی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
پس منظر
سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی اور آئینی بینچ کے قیام کے اصولوں پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ آج کے اجلاس میں ان معاملات پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔