پسند کی شادی کا تنازع، گاؤں نذر آتش کیس میں دونوں سردار عدالت میں پیش

جیکب آباد(آئی این پی)پسند کی شادی کا تنازع، گاؤں نذر آتش کیس میں دونوں سردار عدالت میں پیش، سماعت 3 جون تک ملتوی، پولیس نے مزید 4 ملزمان گرفتار کرلئے ۔ تفصیل کے مطابق پسند کی شادی کے تنازع پر تحصیل ٹھل کے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں 100 سے زائد گھروں کو نذر آتش کرنے کی عدالت میں داخل پٹیشن کی سماعت ہوئی، متاثرین کے وکیل نثار مغیری نے کیس میں سردار صدام حسین برڑو اور سردار احمد علی چنہ کے نام کیس میں شامل کرنے کی استدعا کی، متاثرین کی درخواست پر سیکنڈ سیشن جج عطاء اللہ مہر کی عدالت میں سماعت ہوئی جہاں سردار صدام حسین برڑو اور سردار احمد علی چنہ عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر دونوں برادریوں کے بڑی تعداد میں افراد بھی عدالت میں موجود تھے جبکہ عدالت میں رش بڑھنے پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی، سراروں کے وکیل مظفر رند کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے دونوں سرداروں کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا جبکہ کیس کی مزید سماعت 3 جون تک ملتوی کردی گئی، متاثرین کے وکیل کے مطابق گاؤں کے رہائشی غلام شبیر برڑو نے دونوں سرداروں سمیت تین افراد کے نام مقدمے میں شامل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں 22اے بی کی درخواست دائر کی تھی، پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار صدام حسین برڑو اور سردار احمد علی چنہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا، دونوں سرداروں کا کہنا تھا کہ ان کا نام غلط طور پر مقدمے میں شامل کیا جارہا ہے، انہوں نے کسی کے گھر کو آگ نہیں لگائی، ان کا کہنا تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور انہیں انصاف کی امید ہے، دوسری جانب ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق پولیس نے گاؤں جلانے کے مقدمے میں مزید چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے گرفتار ملزمان میں گل حسن چنہ، عابد حسین چنہ، منیر احمد چنہ اور خادم حسین چنہ شامل ہیں، ایس ایس پی کے مطابق واقعے میں ملوث دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس مقدمے میں اب تک گرفتار ملزمان کی تعداد 10 ہوچکی ہے، واضح رہے کہ 5 مئی کو تحصیل ٹھل کے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں پسند کی شادی کے تنازع پر مشتعل افراد نے حملہ کرکے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں متاثرہ خاندان بے گھر ہوگئے تھے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔