مغربی ممالک نے غزہ میں امداد کی بندش پر اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کر دیا

مغربی ممالک نے غزہ میں امداد کی بندش پر اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کر دیا

غزہ میں اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث انسانی المیہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے اور عالمی برادری کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک نے اسرائیل پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ غزہ میں امدادی راہ کھولے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے امدادی ناکہ بندی کو "ظالمانہ" قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے پابندیاں فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔ برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت روک دی ہے۔یورپی یونین نے بھی اسرائیل سے تجارتی معاہدے پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے جبکہ کینیڈا اور فرانس نے واضح کیا ہے کہ اگر انسانی امداد کی راہ نہ کھولی گئی تو اسرائیل کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علاوہ ازیں، برطانیہ نے فلسطینیوں پر تشدد میں ملوث سات اسرائیلی آبادکاروں اور متعلقہ تنظیموں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور اسرائیلی سفیر کو احتجاج کے لیے وزارتِ خارجہ طلب کیا ہے۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اگر اگلے 48 گھنٹوں میں امدادی سامان نہ پہنچا تو 14 ہزار فلسطینی بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔ اس وقت سیکڑوں امدادی ٹرک غزہ کی سرحد پر اسرائیلی اجازت کے منتظر ہیں، جن میں خوراک اور ادویات شامل ہیں۔