قائد کی پکار اور حبیب خاندان کا ایثار !

یاور مہدی
پاکستان کے مالیاتی سفر کا آغاز غیر معمولی بھروسے اور اعتماد کی ایک عظیم مثال سے ہوا۔ 1947ء￿  میں آزادی کے ان پر آشوب دنوں میں، جب نئی مملکت شدید مالی بحران کا شکار تھی اور اس کا اپنا کوئی خزانہ موجود نہ تھا، حبیب خاندان ملک کی بقا کے لیے ڈھال بن کر سامنے آیا۔ خاندان کے بزرگ حبیب اسماعیل کے وڑن کی پیروی کرتے ہوئے اس خاندان نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی پکار پر لبیک کہا۔ یہ واقعہ اب قومی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ جب ریاست کا خزانہ خالی تھا، اس وقت حبیب خاندان نے نوزائیدہ حکومت کو فوری مالی امداد فراہم کر کے پاکستان کے روشن مستقبل پر اپنے پختہ اعتماد کا عملی ثبوت دیا۔
قیامِ پاکستان کے وقت قیادت کو نہ صرف سیاسی بقا بلکہ معاشی استحکام کے چیلنج کا بھی سامنا تھا۔ کسی بھی ملک کی بنیاد بننے والے ادارے مثلاً خزانہ، بینکاری کا نظام اور کرنسی ابھی تشکیل کے مراحل میں تھے جبکہ ریاست اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے تگ و دو کر رہی تھی۔ اگست 1947ء￿  میں پاکستان امیدوں کے ساتھ ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا لیکن اس وقت مالیاتی ڈھانچہ نہایت محدود تھا اور وسائل کی شدید کمی تھی۔ اس نازک گھڑی میں حبیب خاندان کی فوری مالی معاونت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ نئی حکومت کے بنیادی انتظامی امور جاری رہ سکیں۔
آزادی کے فوراً بعد پاکستان نے اپنی خودمختار کرنسی ’پاکستانی روپیہ‘ متعارف کرائی۔ ابتدائی مہینوں میں بھارتی کرنسی نوٹوں پر "پاکستان" کی مہر لگا کر لین دین کیا جاتا رہا، لیکن 1948ء￿  میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کے اپنے بینک نوٹ جاری کیے۔ مرکزی بینک کا باقاعدہ افتتاح یکم جولائی 1948ء￿  کو قائدِ اعظم نے خود کیا، جس سے پاکستان کے آزاد مالیاتی نظام کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔
ان معمولی شروعات سے لے کر آج تک پاکستان کا بینکنگ سیکٹر ایک وسیع مالیاتی نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آج ملک میں تقریباً 55 شیڈولڈ بینک اور مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں، جن کی تقریباً 18500 شاخیں شہری و دیہی علاقوں سمیت بین الاقوامی سطح پر پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ ادارے کروڑوں صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں اور کھربوں روپے کے ڈپازٹس کے ساتھ ملک کی صنعت، تجارت اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس شعبے کی مضبوطی کا اندازہ ملک کے صفِ اول کے بینکوں کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کی اوسط کے مطابق، بڑے اداروں کا منافع تقریباً 77 ارب روپے سے لے کر 21 ارب روپے سالانہ تک ہے، جو پاکستان کی جدید مالیاتی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ ان میں میزان بینک (اسلامک بینکنگ کا پیش رو)، یونائیٹڈ بینک (ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں ممتاز)، ایم سی بی بینک (بہترین آپریشنل کارکردگی)، حبیب بینک (ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک)، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ (عالمی سطح پر مضبوط)، الائیڈ بینک (کارپوریٹ سروسز)، نیشنل بینک (سرکاری مالیات کا محور)، بینک الفلاح (ایس ایم ای بینکنگ)، بینک الحبیب (ٹریڈ فنانس) اور حبیب میٹرو بینک (درآمد و برآمد) نمایاں ہیں۔
حالیہ برسوں میں یہ شعبہ ڈیجیٹلائزیشن کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ معیشت کو ڈیجیٹل بنانا اب مرکزی ہدف ہے، جس کے تحت بینک عوام کو موبائل ایپ اور الیکٹرانک ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے بینک اکاؤنٹ اور موبائل ایپس محض لین دین کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ ایک جدید طرزِ زندگی کا دروازہ بن گئی ہیں۔
آج موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے صارفین فوری فنڈز ٹرانسفر، بلوں کی ادائیگی اور آن لائن شاپنگ کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز ملک بھر میں ڈسکاؤنٹ پلیٹ فارمز بن چکے ہیں، جہاں کھانے پینے، سفر اور صحت کی سہولیات پر 15 سے 50 فیصد تک رعایت مل رہی ہے۔ اس مسابقت نے ایک ایسا نظام پیدا کر دیا ہے جہاں مالیاتی خدمات روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان کی بینکاری کا یہ سفر محض اداروں کی ترقی کا نام نہیں، بلکہ یہ کروڑوں شہریوں کو جدید معاشی مواقع سے جوڑنے کی کہانی ہے۔ 1947ء￿  میں حبیب خاندان نے جس اعتماد کا اظہار کیا تھا، وہ اس یقین کی علامت تھا کہ پاکستان تمام تر چیلنجز کے باوجود ترقی کرے گا۔ آج کروڑوں افراد کے ہاتھوں میں موجود موبائل بینکنگ ایپس اسی سفر کا تازہ ترین باب ہیں۔جو ہمت، کاروباری بصیرت اور اعتماد کی لازوال طاقت کا ثبوت ہیں۔
(نوٹ: قارئین درست مالیاتی اعداد و شمار اور شرائط کے لیے متعلقہ بینکوں یا سرکاری رپورٹس سے رجوع کریں۔ مصنف سابق سول سرونٹ ہیں اور ان سے yawarmehdi@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)