تنازعات کی روک تھام اور امن کے قیام کو کمزور نہیں کیا جانا چا ہیے،سلامتی کونسل میں مستقل نمائندے کا خطاب
نیویارک(آئی این پی )اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی اصلاحاتی منصوبے یواین80 کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا بنیادی مینڈیٹ سب سے اہم رہنا چاہیے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کے ایک غیر رسمی اجلاس ، جس میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے رکن ممالک کو اقوام متحدہ کے نظام کی اصلاح کے لیے اپنی وسیع کوششوں سے آگاہ کیا،میں کہا کہ ہم اقوام متحدہ کو زیادہ موثر بنانے کے لیے یواین 80کے بروقت اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کثیر جہتی کے ایک مضبوط وکیل اور اقوام متحدہ اور اس کے چارٹر کے سخت حامی کے طور پر، پاکستان اس اقدام کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ کامیابی کی کلید اس عمل میں مضمر ہے، جو کہ شفاف، متفقہ اور جامع ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو اندرونی طور پر اور رکن ریاستوں سے چلنے والا اور بیرونی دبائو سے محفوظ ہونا چاہیے۔ اس عمل کو سابقہ اصلاحاتی مشقوں پر استوار ہونا چاہیے تاکہ اس اقوام کو مزید آگے بڑھایا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور بنیادی مفادات کو خاص طور پرپائیدار ترقی کے اہداف اور 2030کے ایجنڈے کی سالمیت کے حوالے سے مرکزی ہونا چاہیے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ عالمی عدم استحکام، بڑھتے ہوئے تنازعات، چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ، بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کا بنیادی مینڈیٹ سب سے اہم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کی روک تھام اور امن کے قیام کو کمزور نہیں کیا جانا چا ہیے بل کہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔