اقوام متحدہ غزہ امن منصوبے پر ٹرمپ کی قرارداد منظور‘پاکستان حمایتی حماس کی مخالفت، چین اور روس کی تنقید

سلامتی کونسل میں قرار داد کے حق میں 14 ووٹ آئے ، مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، روس اور چین نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا
  قرارداد جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی جانب  اہم قدم ہے:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ‘ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق اور مطالبات کو پورا نہیں کر سکتی :حماس
نیویارک (آئی این پی )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں قیامِ امن کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے حق میں قرارداد منظور کر لی،قرار داد کے حق میں 14 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، روس اور چین نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔   برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام بھی شامل ہے۔ اس فورس میں جن ممالک کی افواج شامل ہوں گی، ان کے نام سامنے نہیں آئے ہیں۔سلامتی کونس میں پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں برطانیہ اور فرانس سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستان نے بھی حق میں وٹ دیا۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتھونی گرتیس نے کہا کہ یہ قرارداد جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔   غزہ میں قیامِ امن کیلئے  دیگر مسودوں کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد میں فلسطین کی ریاستی حیثیت تسلیم کرنے اور حقِ خود ارادیت کے حوالے سے ایک مصدقہ حوالہ ہے۔دوسری جانب حماس    اور  دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں   نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق اور مطالبات کو پورا نہیں کر سکتی ہے۔