بھارت کا الزام مسترد کرتے ہیں، پاکستان سکھ مذہب کے مقدس مقامات کا فخر سے نگہبان ہے‘ہمیشہ سکھ یاتریوں کا خیرمقدم کرتا ہے
نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کا اعلان خطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے‘ عالمی برادری اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کو فوری روکے:ترجمان
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان نے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کا بھارتی الزام مسترد کر دیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گولڈن ٹیمپل جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، اس حوالے سے بھارتی الزامات بے بنیاد اور ناقابل قبول ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گولڈن ٹیمپل سکھ عقیدے کا سب سے زیادہ قابل احترام مقام ہے، بھارت نے ہی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا، 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات میں پاکستان میں بھی مختلف عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے الزامات اس ناقابل قبول فعل سے توجہ نہیں ہٹا سکتے، پاکستان سکھ مذہب کے بہت سے مقدس مقامات کا قابل فخر محافظ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتریوں کا خیرمقدم کرتا ہے، پاکستان کرتارپور راہداری کے ذریعے گوردوارہ صاحب کرتارپور تک ویزہ فری رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ترجمان نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کو مکمل کنٹرول میں لینے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کو فوری طور پر روکے، غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی یقینی بنائے، اور لاکھوں ضرورت مند فلسطینیوں تک انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرے۔