شازیہ عابد نے تھانہ جوہرٹائون عملہ پر بیٹے اوربھانجی سے بدسلوکی کا الزام لگایا، اہلکار کی کرپشن پر ایس ایچ او معطل ،نئی پالیسی تیار
لاہور(کرائم رپورٹر )مسلم لیگ ن کی خاتون رکن پنجاب اسمبلی کی شکایت پر لاہور کے جوہر ٹائون تھانے کے ایس ایچ او، محرر اور چار پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔بتایاگیاہے کہ خاتون رکن پنجاب اسمبلی شازیہ عابد کے بیٹے اور بھانجی سے پولیس کی بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا تھا، خاتون رکن نے واقعہ پنجاب اسمبلی اجلاس میں اٹھایا ۔شازیہ عابد نے کہا کہ میرا بیٹا اور بھانجی یونیورسٹی سے واپس آرہے تھے، تھانہ جوہر ٹائون کے اہلکاروں نے انہیں روکا اور ہراساں کیا۔خاتون رکن پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پولیس اہلکار میرے بچوں سے دو لاکھ رشوت مانگتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ معلوم ہونے پر کہ بچے کی والدہ رکن پنجاب اسمبلی ہیں، پولیس والے انہیں ڈراتے رہے اور رابطہ ہونے پر چھوڑ کر چلے گئے۔ذرائع کا کہناہے کہ لاہور پولیس نے کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف سخت پالیسی تیار کر لی ہے ۔ نئی پالیسی کے تحت اگر تھانے میں کوئی اہلکار کرپشن کرتا ہے تو ایس ایچ او کو معطل کر دیا جائے گا۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہناتھاکہ آئندہ کسی اہلکار کی کرپشن ثابت ہوئی تو ایس پی اور ایس ایچ او بھی ذمہ دار ہوں گے۔ اس پالیسی کے تحت ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایم پی اے شازیہ عابد کے بیٹے سے رشوت مانگنے والے سپاہیوں کے ساتھ ایس ایچ او کو بھی معطل کر کے ناروا سلوک اور رشوت مانگنے والے اہلکاروں کے خلاف جوہر ٹائون تھانے میں مقدمہ درج کروا کر ،ناقص سپرویڑن کے حوالے سے ایس پی صدر آپریشنز ڈاکٹر غیور احمد خان کو وضاحتی لیٹر جاری کر دیا ہے۔