کراچی میں حالیہ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں موٹر سائیکل سواروں کی ہلاکتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
21 مارچ 2025 کو، مختلف حادثات میں تین موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوئے:
جوہر موڑ کے قریب تیز رفتار سیمنٹ مکسر کی ٹکر سے 25 سالہ عبدالصبور جاں بحق ہوئے۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے سیمنٹ مکسر کو آگ لگا دی، جبکہ پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔
لیاقت آباد دس نمبر پر ڈمپر کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوا۔
کیماڑی ایک نمبر میں گاڑی کی ٹکر سے ایک اور موٹر سائیکل سوار زندگی کی بازی ہار گیا۔
رواں سال کے آغاز سے اب تک، کراچی میں ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق:
16 مارچ 2025 تک، ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 199 تک پہنچ چکی تھی، جن میں 152 مرد، 21 خواتین، 19 بچے اور 7 بچیاں شامل ہیں۔
11 فروری 2025 تک، ابتدائی 40 دنوں میں 100 سے زائد شہری ہیوی ٹریفک حادثات کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے۔
18 فروری 2025 تک، ٹریفک حادثات میں 116 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 83 مرد، 16 خواتین، 12 بچے اور 5 بچیاں شامل ہیں۔ ان حادثات میں 1,570 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی میں ٹریفک حادثات، خاص طور پر ہیوی ٹریفک کی وجہ سے، ایک سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ حکومتی اقدامات کے باوجود، حادثات کی روک تھام میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور شہریوں میں روڈ سیفٹی کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔