حکومت کا سولر پینلز پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ، وزیر خزانہ کا اعلان

حکومت کا سولر پینلز پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ، وزیر خزانہ کا اعلان

ویب ڈیسک: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کم اور متوسط آمدن والا طبقہ مہنگائی جھیلتا اور ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتا ہے، یہی طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی بجٹ تجاویز کا حصہ ہے، 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔یہ بات انہوں نے بجٹ تجاویز سے متعلق اجلاس میں گفتگو کے دوران کہی، جس میں بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر، سیکرٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ایوان میں بجٹ تجاویز کا مؤقف واضح طور پر پیش کیا، جسے سراہا گیا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا، حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے افراطِ زر پر قابو پایا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کیا۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ملک کو اقتصادی غیر یقینی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت نے عوامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے سولر پینلز پر ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

 18 فیصد مجوزہ سیلز ٹیکس کو کم کرکے 10 فیصد کیا گیا ہے، جو صرف 46 فیصد درآمدی پرزہ جات پر لاگو ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس ٹیکس سے امپورٹڈ سولر پینلز کی قیمت میں صرف 4.6 فیصد اضافہ ہوگا۔انہوں نے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور حکومت عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ماحول دوست اور پائیدار معیشت کی طرف لے جانے کے لیے قابل تجدید توانائی اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔