پشاور : خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو آئینی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں صوبائی اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔
اپنے ایک اہم بیان میں بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ:"خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کا اختیار صرف اور صرف وزیراعلیٰ کے پاس ہے، اور اگر وہ فیصلہ کریں تو کسی بھی وقت اسمبلی توڑی جا سکتی ہے۔"
عمران خان سے مشاورت کے بغیر بجٹ ناممکن
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی مشاورت کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا۔"عوام نے ووٹ عمران خان کے نظریے کو دیا ہے، لہٰذا بجٹ سمیت تمام اہم فیصلے انہی کے ویژن کے مطابق کیے جائیں گے۔"
ایمرجنسی کی صورت میں سخت ردعمل کی تنبیہ
بیرسٹر سیف نے کسی ممکنہ آئینی یا غیر آئینی اقدام کے پیشِ نظر خبردار کیا کہ:
"اگر کسی بھی قسم کی ایمرجنسی یا غیر جمہوری اقدام کی کوشش کی گئی تو جعلی حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکے گی۔ عوام اپنے مینڈیٹ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔"
فارم 45 بمقابلہ فارم 47
انہوں نے دعویٰ کیا کہ:"خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں فارم 45 کی بنیاد پر عوامی مینڈیٹ سے بنی ہوئی حقیقی حکومت قائم ہے، جب کہ دیگر تمام حکومتیں فارم 47 کی جعلی چھتری تلے کھڑی ہیں۔"
"ایک دھکا اور" کا عندیہ
بیرسٹر سیف نے اپنے بیان کا اختتام اس جملے پر کیا:"جعلی حکومتوں کو گرانے کے لیے صرف ایک دھکا کافی ہے۔"
پس منظر:
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں سیاسی تناؤ اور بجٹ منظوری کے عمل پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں، اور خیبر پختونخوا حکومت مرکز کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کی کیفیت میں ہے۔