لاہور : ملک میں چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جاری ہے، جہاں اوپن مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت 181 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
حکومتی سطح پر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف اعلاناتی کریک ڈاؤن کا کوئی خاطر خواہ اثر نظر نہیں آ رہا۔
یوٹیلیٹی اسٹورز پر بدترین قلت
ذرائع کے مطابق:لاہور شہر کے تقریباً 100 یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کی شدید قلت برقرار ہے۔صارفین کو اسٹورز پر بارہا جانے کے باوجود چینی دستیاب نہیں ہو رہی، جس کے باعث عوام میں مایوسی اور غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں مانگ میں اضافہ
یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کی عدم دستیابی کے باعث شہری:"اوپن مارکیٹ کا رُخ کر رہے ہیں، جہاں قیمت 181 روپے فی کلو ہو چکی ہے۔"مارکیٹ ذرائع کے مطابق:"چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیچھے ذخیرہ اندوزی، غیر مؤثر حکومتی نگرانی اور طلب و رسد میں بگاڑ جیسے عوامل ہیں۔"
کریک ڈاؤن غیر مؤثر؟
حکومت کی جانب سے:ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کے دعوے کیے گئے۔مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ نہ تو قیمتیں قابو میں آئیں، نہ ہی مارکیٹ میں دستیابی بہتر ہو سکی۔
عوامی ردِعمل:
شہریوں کا کہنا ہے:"یوٹیلیٹی اسٹورز پر خالی ہاتھ لوٹنا معمول بن چکا ہے، حکومت صرف بیانات دیتی ہے، عملدرآمد نظر نہیں آتا۔"
تجزیہ:
مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔اگر حکومت فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کرے تو رمضان اور محرم جیسے اہم مہینوں میں ذخیرہ اندوزی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔