سندھ میں تین بچیوں کے اغواء کا معاملہ تشویشناک ہے:کھیل داس کوہستانی

 جبری مذہب کی تبدیلی اسلام میں جائز نہیں ، ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے،وزیر مملکت مذہبی امور
معاملے پر حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ اور حمایت فراہم کی جائے گی،وفاقی وزیرقانون
اسلام آباد(آن لائن) وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ سندھ میں تین بچیوں کی اغوائیگی کا معاملہ تشویشناک ہے انہوں نے کہاکہ جبری مذہب کی تبدیلی اسلام میں جائز نہیں ہے ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے۔جمعہ کو ایوان بالا میں وزیرمملکت کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ سانگھڑ شہداد پور میں ہونے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے سندھ پولیس نے ایکشن لیا ہے اور بچیوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات سندھ میں رونما ہورہے ہیں، سندھ میں ہمارا دشمن بہت مضبوط ہے اوروہ اقلیتوں کے ساتھ ظلم کر رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ دین اسلام میں جبر کی کوئی اجازت نہیں ہے، ایک ہی دن میں بچیوں کو اغواء کیاجاتا ہے، دوسرے دن عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے اور تیسرے دن اس کا مذہب تبدیل کرکے نکاح کردیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتوں کو تحفظ ہو۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے اور اس پر متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن کے حوالے سے بل دونوں ایوانوں نے منظور کیا ہے کمیشن کو مکمل اختیارات دئیے گئے ہیں ۔اس مسئلے کے حوالے سے سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں 18سال سے کم عمر بچوں کی شادیاں نہیں ہوسکتی ہیں، اس معاملے پر حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ اور حمایت فراہم کی جائے گی۔