ایف بی آرموجودہ ٹیکس گزاروں پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہ ڈالے: گوہر اعجاز

  بینک اکائونٹس ہولڈرز کا ڈیٹا استعمال کرکے ٹیکس نیٹ بڑھایاجائے، فائلرز ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے
تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے،سابق نگراں وفاقی وزیرنے ایف بی آر کو تجاویز پیش کردیں 
اسلام آباد(آئی این پی )سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت و داخلہ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف بی آرموجودہ ٹیکس گزاروں پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہ ڈالے اور بینک اکائونٹس ہولڈرز کا ڈیٹا استعمال کرکے ٹیکس نیٹ بڑھائے۔سماجی رابطوں کے نیٹ ورک ایکس پر اپنے بیان میں گوہر اعجاز نے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے ایف بی آرکو تجاویز پیش کردیں۔انہوں نے کہا ایف بی آر نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات کرے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد 59 لاکھ ہے، جب کہ 17کروڑ 70 لاکھ بینک اکائونٹس ہولڈرز موجود ہیں، بینک اکائونٹس ہولڈرز کے پاس 32.7ٹریلین کے ڈیپازٹس موجود ہیں۔سابق نگران وزیر کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھائے ، نان فائلرز کے فنانشل پروفائلز کو دیکھا جا سکتا ہے، تمام بینکس اکائونٹس ہولڈرز کی تمام معلومات جانتے ہیں، ایف بی آر نان فائلرز کی بینکنگ ٹرانزیکشنز اور ڈیپازٹس کو دیکھ سکتا ہے۔سابق نگران وزیر تجارت نے کہا کہ ٹیکس فائلرز اور بینک اکائونٹس ہولڈرز کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے، ٹیکس فائلرز ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہیں، ٹیکس فائلرز رواں سال 12 سو ارب روپے کا ٹیکس ادا کر رہے ہیں، ایف بی آر نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرے۔