غریب آدمی پر ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کرنا چاہتے ہیں شہبازشریف

  ٹیکس گوشواروں کو اردو زبان میں پیش کرنا خوش آئند،ٹیکس اصلاحات میں عام آدمی کی سہولت پر توجہ مرکوز کی جائے،گوشوارے بھرنے میں عوام کی معاونت کے لئے فوری طور پر ہیلپ لائن قائم کی جائے

  ڈیجیٹل‘انوائسنگ کا بھی اردو میں اجرا کیا جائے، ٹیکس نظام کی اصلاحات کے مثبت ثمرات وزیرِ خزانہ، معاشی ٹیم، چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے:وزیراعظم کی اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد(آئی این پی )وزیرِ اعظم شہبازشریف نے  ٹیکس گوشواروں کو اردو زبان میں پیش کرنے کے اقدام کو خوش آئند قراردیتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹیکس گوشوارے بھرنے میں عوام کی معاونت کے لیے فوری طور پر ہیلپ لائن قائم کی جائے، ٹیکس اصلاحات میں عام آدمی کی سہولت اولین ترجیح ہونی چاہیے ، ڈیجیٹل-انوائسنگ کا بھی اردو میں اجرا کیا جائے ۔و زیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی ڈیجیٹائیزیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام کے اطلاق اور دیگر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی تمام اصلاحات کی شفافیت کے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، عوام کی سہولت کے لیے ٹیکس گوشواروں کو ڈیجیٹل، مختصر اور مرکزی ڈیٹابیس سے منسلک کرکے آسان ترین بنا دیا گیا ہے، نئے آسان ٹیکس گوشواروں سے تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ مستفید ہوگا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) کی آسانی کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ زیادہ سے ذیادہ لوگ نئے نظام کے تحت گوشوارے جمع کروائیں، ٹیکس نظام کی اصلاحات کے مثبت ثمرات وزیرِ خزانہ، معاشی ٹیم، چیئرمین ایف بی آر اور ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات میں ٹیکس بیس کا اضافہ اور غریب آدمی پر ٹیکس کے بوجھ میں مزید کمی شامل ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس اسیسمنٹ کے نظام کا اطلاق بڑی کامیابی ہے، ایف بی آر کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل-انوائسنگ کے نظام میں شمولیت کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔اجلاس کو ڈیجیٹل انوائسنگ، ای بلٹی، ٹیکس گوشواروں کو آسان بنانے، مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ سسٹم، سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام اور کارگو ٹریکنگ سسٹم پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو ایف بی آر کے کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ کے قیام کی پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کے لیے بِڈنگ جلد مکمل کرکے ستمبر تک اسے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا، اس سے نہ صرف مرکزی ڈیٹا میسر ہوگا بلکہ فیصلہ سازی میں بھی آسانی ہوگی۔