جوڈیشل کمیشن اجلاس، سندھ ہائیکورٹ میں3 ایڈیشنل ججوں کے تقرر کی منظوری انٹرنیشنل کمرشل کورٹ قائم کرنے کی سفارش

اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے بھی  3ججوں کی منظوری ‘ایڈووکیٹ ایاز شوکت اور ایڈوکیٹ عمیر مجید ملک کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج تعینات کرنے کی سفارش کی گئی 
جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو حتمی منظوری کے لئے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا‘پی ٹی آئی ارکان بیرسٹر علی ظفر اور گوہرعلی خان نے اجلاس میںشرکت نہ کی
اسلام آباد(آن لائن)جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس، سندھ ہائیکورٹ کے لیے 3 اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے بھی  3ججز کی منظوری دے دی۔چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں اجلاس، سریش کمار، شاہ نواز میمن اور ہمایوں خان کو ایڈیشنل جج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے ججز کے ناموں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں کمیشن نے سریش کمار، شاہ نواز میمن اور ہمایوں خان کو سندھ ہائیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ تینوں نامزد ججز کا تعلق ڈسٹرکٹ جوڈیشری سے ہے اور ان کی تقرری سے سندھ ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کے بوجھ میں کمی کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کا نام بھی زیرِ غور آیا تھا جسے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے تجویز کیا تھا۔اس کے علاوہ جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے بھی دو وکلا کے ناموں کی سفارش کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ ایاز شوکت اور ایڈوکیٹ عمیر مجید ملک کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔جوڈیشل کمیشن کی ان سفارشات کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔ منظوری کے بعد صدرِ پاکستان ان ججز کی باضابطہ تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔اس دوراں بطورممبران بیرسٹر علی ظفر اور گوہرعلی خان نے شرکت نہیں کی ع۔ علاوہ ازیںچیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن کا 49واں اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹارنی جنرل پاکستان، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف اور کمیشن کے ارکان نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن نے انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کی سفارش وفاقی حکومت کو بھجوا دی۔انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لئے آئین میں نئے آرٹیکل 212A شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے