حافظ محمد اقبال
پنجاب میں دیہی ترقی کے حوالے سے حالیہ پیش رفت ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں ہزاروں دیہات کی بہتری کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے۔ مثالی گاؤں منصوبے کے دوسرے مرحلے کی اصولی منظوری اور مزید 7500 دیہات کو اس میں شامل کرنے کا اعلان بظاہر ایک انقلابی قدم معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے حقیقی اثرات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔پاکستان جیسے ملک میں دیہات ہمیشہ سے ترقی کے عمل میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ شہری علاقوں میں جہاں بنیادی سہولیات نسبتاً بہتر ہیں، وہیں دیہات میں آج بھی پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پْر کرنے کے لیے مختلف ادوار میں متعدد منصوبے متعارف کرائے گئے، مگر ان کی کامیابی ہمیشہ سوالیہ نشان رہی۔ ایسے میں موجودہ حکومت کا یہ اقدام امید کی ایک نئی کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مثالی گاؤں منصوبہ دراصل ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد صرف ظاہری ترقی نہیں بلکہ دیہی زندگی کے معیار کو مجموعی طور پر بہتر بنانا ہے۔ صاف پانی کی فراہمی، سولر سسٹم ٹیوب ویل، گندے پانی کے تالابوں کی صفائی اور سیوریج کے نظام کی بہتری جیسے اقدامات نہ صرف صحت عامہ پر مثبت اثر ڈالیں گے بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بھی آسان بنائیں گے۔ دیہات میں آلودہ پانی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کا خاتمہ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو ہو سکتا ہے۔تاہم، کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی ہم نے کئی ایسے منصوبے دیکھے ہیں جو کاغذوں میں تو شاندار نظر آتے تھے مگر عملی طور پر وہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔ اس کی بنیادی وجہ شفافیت کی کمی، ناقص نگرانی اور وسائل کا غلط استعمال رہی ہے۔ اگر اس بار بھی انہی غلطیوں کو دہرایا گیا تو یہ منصوبہ بھی عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے گا۔
اس تناظر میں وزیراعلیٰ کی جانب سے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ہر گاؤں کی پہلے اور بعد کی ویڈیوز پیش کرنے کی ہدایت ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ منصوبے کی پیش رفت کا حقیقی جائزہ بھی لیا جا سکے گا۔ اسی طرح ہیلپ لائن 1336 کا قیام بھی ایک اہم اقدام ہے، جس کے ذریعے عوام براہ راست اپنی شکایات درج کروا سکیں گے۔ تاہم، اصل چیلنج ان شکایات کے بروقت اور مؤثر ازالے میں ہے۔پہلے مرحلے میں 485 دیہات کو مثالی گاؤں میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے، جس پر 59 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ یہ ایک بڑی سرمایہ کاری ہے، اور اس کے نتائج بھی اسی قدر بڑے ہونے چاہئیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف دیہی علاقوں کی ترقی کا باعث بنے گا بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈالے گا، کیونکہ دیہات میں بہتری سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور دیہی معیشت کی مضبوطی ممکن ہو سکے گی۔مزید برآں، 30 جون تک تالابوں کی صفائی اور 31 اگست تک سیپٹک ٹینک کی تعمیر کی ڈیڈ لائنز مقرر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ مگر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں اکثر منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں، ان ڈیڈ لائنز پر عمل درآمد ایک بڑا امتحان ہوگا۔ اگر حکومت ان اہداف کو مقررہ وقت میں حاصل کر لیتی ہے تو یہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔
دیہی علاقوں میں ترقی کا ایک اور اہم پہلو سماجی رویوں میں تبدیلی ہے۔ صرف انفراسٹرکچر کی بہتری کافی نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کی سوچ اور طرز زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لانا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر صاف پانی فراہم کر دیا جائے مگر لوگ پھر بھی پرانے طریقوں پر عمل کریں تو اس منصوبے کے فوائد محدود ہو جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس منصوبے کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ لوگ ان سہولیات کا درست استعمال کر سکیں۔خوشاب، چشتیاں اور راجن پور جیسے علاقوں میں واٹر سپلائی منصوبوں کی جلد تکمیل کی ہدایات بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بنیادی سہولیات کی کمی زیادہ شدت سے محسوس کی جاتی ہے، اس لیے یہاں ترقیاتی کاموں کا اثر بھی زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم پہلو وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ دیہات میں بسنے والے افراد بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور انہیں بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو شہری علاقوں میں رہنے والوں کو حاصل ہیں۔ وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ ‘‘دیہات میں بسنے والے بھی اسی معیار زندگی کے حق دار ہیں’’ نہ صرف ایک پالیسی بیان ہے بلکہ ایک عہد بھی ہے، جسے عملی جامہ پہنانا وقت کی ضرورت ہے۔
مزید یہ کہ اس منصوبے کے تسلسل کو یقینی بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ترقیاتی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں یا ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اگر مثالی گاؤں منصوبہ واقعی ایک دیرپا تبدیلی لانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک مستقل پالیسی کا درجہ دینا ہوگا۔ اس کے لیے نہ صرف ادارہ جاتی استحکام ضروری ہے بلکہ بیوروکریسی کی مکمل معاونت بھی ناگزیر ہے۔ مقامی حکومتوں کا کردار بھی اس منصوبے کی کامیابی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گاؤں کی سطح پر منتخب نمائندے اگر اس عمل میں شامل ہوں تو نہ صرف کام کی رفتار تیز ہو سکتی ہے بلکہ شفافیت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ مقامی افراد اپنی ضروریات کو بہتر انداز میں جانتے ہیں، اس لیے ان کی شمولیت سے منصوبہ زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ مثالی گاؤں منصوبہ ایک مثبت اور ضروری قدم ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار اس کے مؤثر نفاذ، شفافیت اور مسلسل نگرانی پر ہے۔ اگر حکومت ان پہلوؤں پر توجہ دے تو یہ منصوبہ واقعی دیہات کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ بھی ماضی کے دیگر منصوبوں کی طرح ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا۔اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس موقع کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ اگر سنجیدگی، دیانتداری اور عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے دیہات واقعی مثالی بن جائیں گے اور وہاں بسنے والے افراد بھی ایک باعزت اور خوشحال زندگی گزار سکیں گے۔