لاہور کی سڑکیں اور چالانوں کی دکان

کاشف  بٹ
لاہور، جسے روشنیوں اور زندگی کا شہر کہا جاتا ہے، آج ٹریفک کے عذاب میں جکڑا ہوا ہے۔ ہر سڑک پر گاڑیوں کا سیلاب، ہر چوک پر ہارنوں کا شور، ہر اشارے پر گاڑیوں کی قطاریں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ان مسائل کے حل کی بجائے صرف "جرمانے" کو علاج سمجھ لیا گیا ہے۔لاکھوں روپے روزانہ شہریوں کی جیبوں سے نکل کر سرکاری خزانے میں جا رہے ہیں، مگر کیا ٹریفک بہتر ہوئی؟ کیا سگنل پر کھڑے وارڈن نے عوام کو ریلیف دیا؟ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وارڈنز کی اولین ترجیح صرف چالان کاٹنا رہ گئی ہے۔ کسی ڈرائیور نے غلط اشارہ کراس کیا تو فوراً جرمانہ، کسی نے ہیلمٹ نہیں پہنا تو جرمانہ، کسی نے غلط لین میں گاڑی لگا دی تو پھر جرمانہ۔ لیکن اگر کہیں ٹریفک جام ہو جائے، گاڑیاں گھنٹوں پھنسی رہیں تو وہاں وارڈن نظر ہی نہیں آتا۔لاہور کی عوام پوچھنے میں حق بجانب ہے:اگر جرمانوں سے ہی ٹریفک ٹھیک ہونی تھی تو پھر آج بھی ہر سڑک پر یہ بدنظمی کیوں ہے؟ اگر شہریوں کی جیبیں کاٹنے سے نظام بہتر ہو سکتا تو اب تک لاہور کی سڑکیں مثالی ہوتیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک کو ریونیو کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ وارڈنز شہریوں کو سہولت دینے کے بجائے شکار ڈھونڈنے میں لگے ہیں۔ یہ رویہ عوام کے دل میں نفرت اور بیزاری پیدا کر رہا ہے۔لاہور کو ٹریفک کے اس عذاب سے نکالنے کے لیے حکومت کو سوچ بدلنی ہوگی۔وارڈنز کو "چالان مشین" کے بجائے "ٹریفک کنٹرولر" بنایا جائے۔شہریوں کو ٹریفک قوانین کی تعلیم دی جائے، اسکولوں اور کالجوں میں اس موضوع کو شامل کیا جائے۔سڑکوں اور اشاروں کا نظام درست کیا جائے، ورنہ جرمانے بڑھانے سے صرف خزانہ بھرے گا، سڑکیں نہیں سنبھلیں گی۔ میری عوام سے بھی اپیل ہے کہ لاہوریو! یہ شہر ہمارا ہے، اس کی سڑکیں، اس کا سکون اور اس کی ترتیب ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ صرف حکومت یا وارڈنز پر نہ چھوڑیں، خود بھی قانون کی پاسداری کریں۔ اپنی گاڑی وہاں پارک کریں جہاں اجازت ہے، اشارہ توڑنے سے بچیں، موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہنیں اور صبر کے ساتھ گاڑی چلائیں۔ یاد رکھیں! جب تک ہم سب مل کر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے، یہ شہر ہمیشہ ٹریفک کے شور اور بدنظمی میں دبا رہے گا۔