وقاص اورکزئی، ارشاد ، عرفان سلیم اورعائشہ بانو اب الیکشن نہیں لڑیں گے
خرم ذیشان سے رابطے کی کوششیں، معاہدے کی پاسداری کرینگے: گنڈا پور
پشاور ، لاہور (، مانیٹرنگ ڈیسک ) خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے پانچ باغی امیدواروں میں سے 4 نے سینیٹ الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔پہلے وقاص اورکزئی نے انتخاب سے دستبرداری کا اعلان کیا جس کے بعد اب ارشاد حسین، عرفان سلیم اورعائشہ بانو نے بھی دست برداری کا اعلان کردیا ہے۔ ارشاد حسین نے کہا ہے کہ وہ الیکشن نہیں لڑنا چاہتے لہذا ان کا نام سینیٹ الیکشن سے ڈراپ کیا جائے۔ گفتگو میں ارشاد حسین نے کہا کہ خرم ذیشان کے سواا باقی تمام ناراض امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجبوری کے تحت ہمیں دستبردار ہونا پڑا، خرم ذیشان کے سوا باقی تمام ناراض امیدوار دستبردار ہوئے۔عرفان سلیم کو سمجھایا کہ ا?پ کا سیاسی کیریئر تباہ ہو جائے گا، میرے سمجھانے پر عرفان سلیم بھی دستبردار ہوئے۔وقاص اورکزئی کا کہنا تھا کہ کاغذات واپس لینے کا مقصد یہ نہیں کہ اپنے نظریے سے پیچھے ہٹا، بیرسٹرگوہر، سلمان اکرم راجا نے یقین دلایا کہ نام بانی پی ٹی آئی نے ہی فائنل کیے۔اس سے قبل اتوار کو خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر کامیاب 25 ارکان نے حلف اٹھایا۔مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری کے بعد خیبر پختونخوا کا ایوان مکمل اور سینیٹ الیکشن کے لیے الیکٹورل کالج پورا ہوگیا۔اب سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخاب آج ہوگا جس میں 25 امیدوار میدان میں ہوں گے۔ ، معاہدے کے تحت6 نشستیں حکومت جبکہ 5 اپوزیشن کو ملیں گی۔انتخاب میں 145 ارکان اسمبلی ووٹ کاسٹ کریں گے۔گزشتہ روز ۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کی صدارت سپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کردی۔سپیکر نے شیر علی آفریدی کو اپنی نشست سے کورم کی نشاندہی کرنے کا کہہ دیا، اجلاس میں حکومت کے پانچ اراکین موجود تھے۔رہنما مسلم لیگ ن ثوبیہ شاہدنے کہا کہ آپ پانچ سال سے اس صوبے کا حق مار رہے ہیں، سپیکر بابر سلیم نے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ہمیں کوئی طریقہ بتائیں کہ کورم کی نشاندہی پر کیا کرتے ہیں۔رکن ن لیگ ثوبیہ شاہد کا مائیک بند کردیا گیا، بابر سلیم نے کہا کہ اسمبلی میں صرف 25اراکین موجود ہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے سپیکر اسمبلی نا منظور کی نعرے بازی کی، اپوزیشن اراکین سپیکر کے ڈائس کے قریب جمع ہوگئے جس پرخیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس 24 جولائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔قبل ازیں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کے لیے اپوزیشن اراکین ایوان پہنچ گئے تاہم پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو اسمبلی ہال کے بجائے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ انتخابات کے حوالے سے مشاورتی ملاقات تھی، اسلام میں شک کرنا حرام ہے اور وہ کام نہیں کیا جس میں شک ہو۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے بلکہ اسے ڈنکی ٹریڈنگ کہتا ہوں،گھوڑا ایک بڑا قابل عزت جانور ہے اور میں خود گھوڑوں کا بہت شوقین ہوں، دیکھا جائے تو گدھا بھی خدمت کرنے والا جانور ہے۔وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ سینیٹ میں خرید و فروخت اس سے بھی گھٹیا کام ہے،اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ میں خرید و فروخت نہیں ہونی چاہیے،صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اتنا اچھا فیصلہ ہورہا ہے،اس سے پہلے پنجاب سینیٹ انتخابات میں ہم نے یہی کیا ہے۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جو فیصلہ کیا تھا اسی فارمولے پر عمل کریں گے،عدالتی احکامات کے مطابق مخصوص نشستوں کے منتخب اراکین گورنر ہائوس میں حلف لے رہے ہیں، ناراض امیدواروں کے خلاف پارٹی کارروائی کریں گی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے فیصلہ کی نفی عمران خان کی نفی ہے،اپوزیشن سے اتحاد صرف سینیٹ انتخابات تک ہے،اپوزیشن کے ساتھ پہلے 8 اور 3 کے فارمولے پر اتفاق ہوا تھا۔وزیراعلی کے پی نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس نہ لینے سے ہمیں نقصان ہوا۔ اب ہمیں 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملی، جو بھی ہو رہا ہے وہ بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر ہو رہا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسمبلی علی امین گنڈاپور کا مخصوص نشستوں کی حلف برداری کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔پشاور سے جاری اپنیبیان میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر گورنر ہائوس میں حلف آئین کی خلاف ورزی ہے، آئین کا آرٹیکل 65 واضح ہے، حلف صرف اسمبلی فلور پر ہو سکتا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور سپیکر نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے، گورنر ہائوس میں مخصوص نشستوں پر حلف کا عمل عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں۔علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ رٹ پٹیشن مکمل کر لی،آج عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔اس سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ علی مین گنڈاپور، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباداللہ اور سپیکر بابر سلیم سواتی شریک تھے۔اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دھوکا دہی نہیں ہوگی۔ہارس ٹریڈنگ کو ڈونکی ٹریڈنگ کہتا ہوں، گھوڑا ایک بڑا قابل عزت جانور ہے میں خود گھوڑوں کا بہت شوقین ہوں، دیکھا جائے تو گدھا بھی خدمت کرنے والا جانور ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ میں خرید و فروخت اس سے بھی گھٹیا کام ہے، فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ میں خرید و فروخت نہیں ہونی چاہیے، صوبیکی تاریخ میں پہلی بار اتنا اچھا فیصلہ ہورہا ہے، اس سے پہلے پنجاب سینیٹ انتخابات میں ہم نے یہی کیا ہے۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نیجو فیصلہ کیا تھا اسی فارمولے پرعمل کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ ناراض امیدواروں کے خلاف پارٹی کارروائی کرے گی، بانی پی ٹی آئی کے فیصلہ کی نفی بانی پی ٹی آئی کی نفی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے اتحاد صرف سینیٹ انتخابات تک ہے، اپوزیشن کے ساتھ پہلے 8 اور 3 کے فارمولے پر اتفاق ہوا تھا، ہمارے امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس نہ لینے سیہمیں نقصان ہوا، اب ہمیں 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملیں گی۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ناراض پارٹی امیدواروں کے الیکشن لڑنے کے باوجود حکومت معاہدے کی پاس داری کرے گی۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ناراض امیدوار میرے یا پارٹی کے نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کو نہیں مان رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے جن 6 امیدواروں کے فہرست کی منظوری دی وہی پارٹی کے امیدوار ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت دی تھی کہ بلا مقابلہ سینیٹرز منتخب کروانے کے لیے پارلیمانی پارٹی اور پولیٹیکل کمیٹی فیصلہ کرے، دونوں فورمز پر متفقہ طور پر سینیٹ کے لیے امیدوار بلامقابلہ منتخب کروانے کی منظوری دی گئی۔ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت، ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کسی شخص کو حلف دلانے کے لیے نامزد کرنے کا کوئی انتظامی اختیار نہیں رکھتا۔آرٹیکل 255(2) صرف اس وقت لاگو ہو سکتا ہے جب اصل مجاز اتھارٹی، یعنی سپیکر، دستیاب نہ ہو۔ سپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنا ''غیر موجودگی'' نہیں کہلاتی۔الیکشن کمیشن کے پشاور ہائیکورٹ کو خط اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پہ تحریک انصاف نے ردعمل میں کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ از خود مداخلت کریں اور کسی شخص کو حلف دلانے کے لیے مقرر کریں۔ وہ انتظامی احکامات کے پردے میں اس قسم کے عدالتی احکامات جاری نہیں کر سکتے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 130 اور 255 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔حیران کن طور پر، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر یک طرفہ طور پر آرٹیکل 255 کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر کو حلف لینے کی ہدایت جاری کی۔ یہ ایک سنگین آئینی تشویش کو جنم دیتا ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں غلط بیانی کی ہے اور عدالت کو گمراہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آرٹیکل 130 اور 255 کے تحت، چیف جسٹس کے پاس آئینی طور پر یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو ایم پی ایز سے حلف لینے کے لیے نامزد کریں۔ سپیکر کو نظرانداز کرنے کا ان کے پاس نہ کوئی عدالتی اور نہ ہی کوئی انتظامی اختیار ہے۔ گورنر کو ہدایت دینے کے لیے خط لکھنا ایک واضح آئینی تجاوز اور آرٹیکل 255 کا غلط استعمال ہے۔خط کے ذریعے عدالتی احکامات جاری نہیں کیے جا سکتے۔ یہ آئینی عمل کا مذاق اْڑانے کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس نہ تو کوئی درخواست سن رہے تھے اور نہ ہی عدالتی حیثیت سے عمل کر رہے تھے، پھر بھی انہوں نے گورنر کو آرٹیکل 255 کے تحت عمل کرنے کی ہدایت دی۔مشیرِ اطلاعات کے بیرسٹر سٹر سیف نے کہا ہے کہ آج گورنر ہائوس میں جمہوریت کی لاش پر حلف اٹھایا گیا، حلف اٹھاکر جمہوری روایات کی نفی کی گئی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت الیکشن کمیشن کی غلط بیانی کی مذمت کرتی ہے، سپیکر صوبائی اسمبلی نے حلف برداری منسوخ نہیں کی، ذمہ داروں کو بہت جلد آئین وقانون کی پامالیوں کا حساب دینا ہوگا۔ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے وقت میں تبدیلی کردی، نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے وقت میں تبدیلی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات (آج)پیر کی صبح 9 بجے کے بجائے 11 بجے ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں 7 جنرل، 2 خواتین، 2 ٹیکنوکریٹ نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔دوسری طرف گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ میں نے سینیٹ ارکان سے آئین کے مطابق حلف لیا۔پشاور گورنر ہائوس میں مخصوص نشستوں پر سینیٹ ارکان سے تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ایک فارمولا طے پایا تھا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں آزاد ارکان سیبات چیت جاری ہے،میں نیآئین کیمطابق ارکان سیحلف لیا ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 30 سے 35 آزاد ارکان موجود ہیں، ہم اپنا لائحہ عمل طے کر لیں گے۔گورنر خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نیآئین کی خلاف ورزی کی، ہماری کوشش ہوگی کہ6سے7ارکان منتخب کرائیں۔ادھر پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ نے آج 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ ضمنی انتخاب کے لئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، اسمبلی سیکریٹریٹ کو ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کی جانب سے بھجوایا گیا تھا۔پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون یا الیکٹرانک ڈیوائس لے جانا سختی سے منع ہے۔بیلٹ پیپر کی تصاویر لینا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔امیدوار یا ان کے حامی کسی سرکاری ملازم یا عہدیدار سے مدد نہیں مانگ سکتے۔کوئی سرکاری ملازم یا عہدیدار کسی امیدوار کی حمایت یا مخالفت نہیں کر سکتا۔صدر مملکت اور صوبائی گورنرز سینیٹ انتخابات کی مہم میں کسی بھی طرح حصہ نہیں لیں گے اور نا ہی سرکاری املاک کا استعمال کریں گے۔متن کے مطابق اسلام کی عظمت، پاکستان کے نظریے، پارلیمنٹ،عدلیہ ، افواج کی سالمیت و آزادی کے خلاف کوئی رائے یا عمل نہیں کرے گا، ان اداروں کی توہین یا مذاق اڑانا بھی ممنوع ہے۔خلاف ورزی پر الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 10 کے تحت توہین عدالت کا نوٹس لیا جا سکتا ہے۔