رائٹ سائزنگ:وزارتوں میں کمی کا معاملہ سرد خانے کی نذر

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی حکومت کا اخراجات میں کمی لانے اور رائٹ سائزنگ کے تحت وزارتوں کی تعداد میں کمی کا معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا ، وزارتوں کی تعداد 32 سے کم کرکے 22 کرنے کی تجاویز پر عمل روک دیا گیا ، ایک سال میں آٹھ وزارتوں کو ضم کیا گیا تاہم دیگر وزارتیں بدستور قائم ہیں ، دوسری طرف دو نئے ڈویڑنز تشکیل دیئے گئے ہیں۔ وزارت ریاستیں و سرحدی امور کو تحلیل کرکے وزارت امور کشمیر میں ضم کیا گیا۔ وزارت ایوی ایشن کو وزارت دفاع ، انسداد منشیات کو وزارت داخلہ ، وزارت قومی ورثہ و ثقافت کو وزارت تعلیم ، نیشنل سکیورٹی ڈویڑن کو کابینہ ڈویڑن ، وزارت ریونیو ڈویڑن کو وزارت خزانہ میں ضم کیا گیا ہے۔ خسارے کا شکار اور یکساں طرز کا کام کرنے والی وزارتوں کو ضم کرکے نئی وزارتیں تشکیل دینے کی تجاویز تیار کی گئی تھی جس کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ اور موسمیاتی تبدیلی کو نئی وزارت موسمیاتی تبدیلی و فوڈ سکیورٹی، دفاع اور دفاع پیداوار کو دفاع و دفاعی پیداوار، وزارت توانائی، پٹرولیم کو انرجی ڈویلپمنٹ، فنانس و اقتصادی امور ڈویڑن اور ریونیو کو ایک وزارت خزانہ و ریونیو اور اقتصادی امور، وزارت قومی صحت اور فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کو یکجا کرکے نئی وزارت ہیومن ڈویلپمنٹ، ہیومین رائٹس اور تخفیف غربت و سماجی تحفظ کو نئی وزارت ہیومن رائٹس اور سماجی تحفظ، وزارت ریلوے، وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس، مواصلات، میری ٹائم افیئرز، ایوی ایشن کی وزارتوں کو یکجا کرکے نئی وزارت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، وزارت اطلاعات و نشریات کی جگہ وزارت انفارمیشن میڈیا، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کو یکجا کرکے نئی وزارت ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ، وزارت تجارت، ٹیکسٹائل اور صنعت و پیداوار کو یکجا کرکے نئی وزارت ٹریڈ اینڈ انڈسٹری تشکیل دینے کی تجویز ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو اپ گریڈ کرکے ایچ آر مینجمنٹ ڈویڑن بنا کر کابینہ ڈویڑن کے ماتحت کرنے کی تجویز تیار کی تھی۔