علی امین گنڈا پور گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

شراب و اسلحہ برآمدگی کیس 21 جولائی کو پر 342 کا بیان ریکارڈ نا کرانے پر عدالت فیصلہ بھی سنا سکتی ہے،تحریری حکم 
اسلام آباد(رضوان قاضی)جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی کی عدالت نے مبینہ شراب و غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کیس میں وزیر اعلی ٰخیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیاہے کہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر عدالت پیش کیاجائے۔ سماعت کے دوران علی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور الحسن نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ پیش کیااورکہاکہ یہ عدالت علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کر سکتی،علی امین گنڈا پور 23 ستمبر تک ہر طرح کے کیسز میں ضمانت پر ہیں،استدعا ہے کہ ستمبر کی کوئی تاریخ دے دیں، اس پرعدالت کے جج نے کہاکہ آپ آڈر کا انتظار کریں اور کیس کی سماعت ملتوی کردی، بعدازاں عدالت نے علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ درخواست مسترد کردی اور وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ بہارہ کہو کو حکم دیاکہ علی امین گنڈاپور کو گرفتارکرکے آئندہ سماعت پر عدالت پیش کیاجائے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت21 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی۔تحریری حکمنامہ میں عدالت نے علی امین گنڈا پور کو عدالت پیش ہونے کا آخر موقع دیتے ہوئیپیش ہو کر 342 بیان ریکارڈ نہ کرانے پر فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا اور کہاکہ اگر 21 جولائی کو 342 کا بیان نا دیا تو مزید موقع نہیں دیا جائے گا،آئندہ سماعت پر 342 کا بیان ریکارڈ نا کرانے پر عدالت فیصلہ بھی سنا سکتی ہے،آٹھ سال سے کیس زیر التوا ہے مئی 2024 سے پراسکیوشن گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرا چکی،علی امین گنڈا پور جان بوجھ کر 342 کا بیان ریکارڈ نہیں کرا رہے،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ اس عدالت کو علی امین