جھنگ میں فلڈ وارننگ جاری ،دریائے جہلم کی سطح بلند ،چک جھمرہ میں نالہ اوور فلو ،فصلیں تباہ
چکوال میں 450 ملی میٹر بارش کے بعد32 سڑکیں مکمل تباہ ، جہلم میں انفراسٹرکچر شدید متاثر
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ صوبہ میں مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ آج سے شروع ہو گا ، بیشتر اضلاع میں بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے آئندہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہونے کا الرٹ جاری کردیا ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ آج سے بارشوں کا نیا سپیل شروع ہوگا،ضلعی انتظامیہ جھنگ نے ضلع میں فلڈ وارننگ جاری کر دی ،دریائے جہلم کی سطح بلند ،ریسکیو 1122 نے واٹر ریسکیو پوائنٹس قائم کر دیئے ،لائوڈ سپیکر کے ذریعے عوامی مقامات پر احتیاطی پیغامات بھی دیئے جا رہے ہیں ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی کا امکان ہے۔ ادھر چک جھمرہ میں تھانہ ساہیانوالہ کے علاقہ چک نمبر 129 ر ب ٹبی اور اسیاں والا کی نواحی آبادیوں سے گزرنے والا سیم نالا اوور فلو ہو گیا جس سے سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں ،سیم نالہ میں پانی کا تیز بہائو حافظ آباد کی طرف سے آیا ،نالے کے قریبی آبادی کے مکینوں کو شفٹ کرنے کا کام جاری ہے،تحصیلدار رانا محمد عرفان ،سی او میونسپل کمیٹی ظفر چٹھہ عملہ اور بھاری مشینری کے ہمراہ موقع پر موجود ہیں،پانی سے ہونے والے نقصان کو بچانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔دوسری طرف چکوال میں حالیہ بارشوں سے انفرا سٹرکچر تباہ ہوگیا، جہلم میں انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوگیا ، دارا پل زمین بوس،پنڈدادنخان اور جہلم کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جس کی بحالی کا کام شروع ہے۔ پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ آج سے شروع ہو گا اور اس دوران راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہائوالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا میانوالی اور گوجرانوالہ میں بارشوں کا امکان ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق رواں برس مون سون کے موسم کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 123 شہری ہلاک اور 462 زخمی ہوئے جبکہ 150 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ دریں اثناء این ڈی ایم اے نے جاری بیان میں بتایا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 25 جولائی تک وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں جن کے باعث دریائے کابل، سوات، پنجکوڑہ، کالپنی نالہ اور بارہ نالہ میں طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ نوشہرہ، مالاکنڈ، سوات، دیر اور بالائی پہاڑی علاقوں میں سیلابی صورت حال اور لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، خانیوال، ساہیوال، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، تونسہ، راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان میں شدید بارشیں متوقع ہیں ،لاہور، راولپنڈی، ملتان اور دیگر علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے جبکہ نشیبی علاقوں کے زیرِآب آنے کا خطرہ ہے۔ سندھ کے کراچی سمیت کئی اضلاع میں بھی بارش کا امکان اور شہری علاقوں میں سیلابی صورت حال کا خدشہ ہے ۔مزید برآں ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی زیر صدارت ہفتہ کو مون سون و فلڈ کانٹیجنسی پلان 2025 بارے منعقدہ جائزہ اجلاس میں کمشنرز و ڈی سیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے ممکنہ مون سون بارشوں سے سیلابی صورتحال، دریائوں میں پانی کے اضافے اور ریسکیو و ریلیف اقدامات بارے بریفنگ دی۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ بارشوں کے باعث اربن و فلیش فلڈنگ کے خدشات موجود ہیں جس سے نمٹنے کیلئے صوبے کے تمام اضلاع کووسائل اور معاونت فراہم کی جائے گی۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 21 جولائی سے پنجاب کے دریائوں میں سیلابی صورتحال بن سکتی ہے جس سے 22 جولائی کو دریائے چناب، جہلم، راوی، ستلج ، سندھ اور ان سے ملحقہ ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے، اس سلسلہ میں صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا۔ مزید برآں اجلاس میں پی ڈی ایم اے پنجاب نے راولپنڈی نالہ لئی کے اطراف ماڈرن الارم سسٹم نصب کرنے ، دریائے راوی، ستلج اور دریائے بیاس کے پاٹ میں قائم آبادیوں کے فوری انخلا کا فیصلہ کرلیا ۔ ریلیف کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیشِ نظر قدرتی آفات سے متاثرہ شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا ۔ ادھر جہلم میں انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد ہائی وے انتظامیہ نے کہا ہے کہ پانی زیادہ ہونے سے پل کی بحالی کے کام میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں ،عارضی پْل لگا کر آمدورفت بحال کی جائے گی۔ڈومیلی کے علاقوں میں بھی رابطہ سڑکیں متاثر ہیں، جھنگ کھوکراں روڈ کا سو میٹر سے زائد حصہ پانی کی نذر ہو گیا، سڑک ٹوٹنے سے درجنوں دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ہائی وے انتظامیہ کے مطابق پھڈیال روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ہے، تھپلہ روڈ بھی بارشی پانی سے شدید متاثر ہے۔رابطہ سڑکیں بہنے سے متعدد دیہات کے باسیوں کو آمدروفت میں پریشانی کا سامنا ہے، علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت سڑکیں بحال کرنے میں مصروف ہیں۔دریں اثناء چکوال میں 450 ملی میٹر بارش کے بعد32 سڑکیں مکمل تباہ ہوچکیں اور سیلابی ریلے رابطہ پل بہا لے گئے، متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے تاہم واپڈا حکام نے علاقے میں بجلی کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔ جبکہ پنجاب میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث زمینی رابطہ متاثر ہونے پر حکومت متحرک ہو گئی ،محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے متعدد مقامات پر عارضی پل قائم کر کے آمد و رفت بحال کر دی ، ازمان روڈ راجن پور اور داجل کے مقام پر عارضی کشتی پل قائم کر دیئے گئے ہیں۔چکوال سوہاوہ روڈ، للہ انٹرچینج جہلم اور حاجی پور راجن پور میں سٹیل پلوں کی تنصیب جاری ہے۔صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق عارضی پلوں کے ذریعے زمینی رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے،چھوٹی ٹریفک کی آمدورفت بحال ہے جبکہ عوام الناس کی سہولت کیلئے اقدامات جاری ہیں۔