بہت سے بورڈ آف ڈائریکٹرز غیر فعال ، موثر نگرانی کی عدم موجودگی نے مالیاتی غلط بیانی اور لاگت میں اضافے کو جنم دیا ہے،وزارت خزانہ
اسلام آباد(آئی این پی )وزارت خزانہ نے کئی وفاقی سرکاری اداروں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق کئی وفاقی سرکاری اداروں کے ریڈ زون میں کام کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے، سرکاری اداروں کے بہت سے بورڈ آف ڈائریکٹرز بدستور غیر فعال ہیں۔وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق کئی وفاقی سرکاری اداروں کا دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے، کئی سرکاری ادارے ریڈزون میں کام کررہے ہیں، ان اداروں کے دیوالیہ ہونے کا صرف امکان نہیں بل کہ قوی امکان ہے۔دستاویز کے مطابق بورڈ ارکان کے پاس مہارت ہے نہ آزادی، بورڈز میں تعینات افسران کے پاس مطلوبہ تجربہ بھی نہیں ہوتا، بورڈ ارکان کے پاس سٹرٹیجک فیصلے لینے اور احتساب نافذ کرنے کا عزم بھی نہیں ہوتا ہے۔محکمہ خزانہ کی دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ تر اداروں میں آڈٹ کمیٹیاں غیرفعال یاصرف علامتی ہوتی ہیں، خطرے کے انتظام کے طریقہ کار یا تو بالکل غیر موجود یا محض خانہ پری تک محدود ہیں۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موثر نگرانی کی عدم موجودگی نے مالیاتی غلط بیانی اور لاگت میں اضافے کو جنم دیا ہے، بعض صورتوں میں مشتبہ فراڈ جیسے معاملات پیدا ہوئے ہیں، مالی عدم استحکام، اداروں پرعوامی اعتماد کے زوال میں اضافہ ہوا ہے۔محکمہ خزانہ کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کے اندرونی نگرانی کے نظام بار بار بر وقت اصلاحی اقدامات لینے میں ناکام رہے ہیں۔