امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے دوسرے روز نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا اور یورپی ممالک مذاکرات کے ذریعے کسی حل تک پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی اتحادی یہ سمجھیں کہ گرین لینڈ کو امریکی حصہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے اور کسی بھی تجارتی تنازعے یا ممکنہ جنگ کے خدشات کو صرف ہسٹیریا قرار دیا۔اسکاٹ بیسنٹ نے آزاد اور منصفانہ تجارت پر زور دیا اور کہا کہ ری بیلنسنگ (تجارتی توازن بحال کرنے) کے اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی تجارتی خسارہ غیر معمولی رفتار سے کم ہو رہا ہے اور یہ تمام اتحادیوں کے لیے مفید ہے۔انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ اگر سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کے اثر و رسوخ کے تحت اپنے فیصلے کرے تو یہ مایوسی کا باعث ہوگا۔ اسکاٹ بیسنٹ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کا انتظار کریں اور اس کے مطابق تعاون کریں۔مزید برآں، امریکی وزیر خزانہ نے یورپی یونین اور فرانسیسی رہنماؤں کے حالیہ بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا سب کے مفاد میں ہے۔