گرین لینڈ تنازع کے دوران میٹے فریڈرکسن مسلسل تیسری بار ڈنمارک کی وزیراعظم بن گئیں

گرین لینڈ تنازع کے دوران میٹے فریڈرکسن مسلسل تیسری بار ڈنمارک کی وزیراعظم بن گئیں

ڈنمارک میں دو ماہ سے جاری سیاسی تعطل کے بعد بالآخر نئی حکومت تشکیل دے دی گئی ہے، جس کے بعد سوشل ڈیموکریٹ رہنما میٹے فریڈرکسن مسلسل تیسری بار ملک کی وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق مارچ میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی، جس کے باعث حکومت سازی کا عمل طویل سیاسی مذاکرات کی نذر ہو گیا۔ اس دوران 12 مختلف جماعتوں کے درمیان کئی ہفتوں تک مشاورت جاری رہی، جس کے بعد بالآخر نئی اقلیتی حکومت کے قیام پر اتفاق ہوا۔انتخابات کے نتائج سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے خاصے مایوس کن رہے، کیونکہ اس کی پارلیمانی نشستیں کم ہو کر 50 سے گھٹ کر 38 رہ گئیں۔ یہ کارکردگی 1903 کے بعد پارٹی کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے، جس نے ملکی سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی۔نئی حکومت کو داخلی سیاسی چیلنجز کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے اہم مسائل کا بھی سامنا ہو گا۔ ان میں سب سے نمایاں معاملہ گرین لینڈ سے متعلق امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے سے متعلق بیانات کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی دباؤ یا ممکنہ قبضے کی کوشش نہ صرف ڈنمارک بلکہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔مزید برآں، نئی حکومت کو یورپ میں جاری روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے بھی نمٹنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے ڈنمارک پہلے ہی اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں جی ڈی پی کے 3 فیصد سے زائد تک پہنچا چکا ہے، جبکہ فوج میں خواتین کی بھرتی کے دائرہ کار کو بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔یوں میٹے فریڈرکسن کی نئی حکومت ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہی ہے جب ملک کو اندرونی سیاسی توازن کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل دباؤ کا بھی سامنا ہے۔