منصوبہ شروع کرنے کی حکومتی چوتھی ڈیڈ لائن 15 جنوری بھی گزر گئی
40 کلومیٹرلمبے کوریڈورکو 2ارب35کروڑ سے ایک سال میں مکمل ہونا تھا
لاہور (کرائم رپورٹر )محکمہ ریلوے کے اشتراک سے ریلوے ٹریک کے ساتھ گرین کوریڈور بنانے کا منصوبہ التوا ء کا شکار، سموگ اور ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسائل کے حل کیلئے گرین کوریڈور بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ریلوے اور ہائوسنگ نے 17 جون2025ء کو گرین کوریڈور بنانے کا اعلان کیا تھا، شاہدرہ سے رائیونڈ کے درمیان ریلوے ٹریک سے منسلک ایریا کو گرین بیلٹس میں تبدیل کرنے کے منصوبہ شروع کرنے کیلئے حکومت نے 15 جنوری 2026 ء کی چوتھی ڈیڈ لائن دی تھی اوروہ بھی گزر چکی،7 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود گرین کوریڈور پر کام کا آغاز نہ ہوسکا۔پی ایچ اے اور پاکستان ریلویز کے اشتراک سے گرین کوریڈور منصوبہ کے تحت مختلف پوائنٹس پر شہریوں کیلئے تفریحی مقامات بنانے کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا، پرانی بوگیوں میں لائبریریاں اور کیفیز بنانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا ،40 کلومیٹرلمبے اور تقریباً 700 کنال رقبہ پر مشتمل گرین کوریڈور منصوبے پر تقریباَ2ارب35کروڑ52لاکھ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیاتھااوراسے ایک سال میں مکمل کیا جانا تھا ،پہلے مرحلہ میں شاہدرہ سے ریلوے اسٹیشن ، دوسرے میں والٹن تک کام مکمل کیا جانا تھا ،تیسرے میں والٹن سے کوٹ لکھپت اورآخر میں چوتھے مرحلہ کو رائیونڈ تک مکمل کیا جانا تھا۔ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے لاہور انعام اللہ کا کہنا ہے کہ منصوبہ پر کام محکمہ ہائوسنگ اور پی ایچ اے نے کرنا ہے،ریلوے کو جب گرین سگنل ملے گا ہم اپنا کام شروع کردیں گے۔