بیرسٹر گوہر مذاکرات ڈانواں ڈول عرفان صدیقی
7 دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی انتظار کر رہے ہیں کیا پیش رفت ہوتی ہے: بیرسٹرگوہر،کٹھ پتلی حکومت ہماراکچھ بگاڑ نہیں سکتی:عمر ایوب ، حتمی جواب تیار کرنے میں ایک ہفتہ مزید لگ سکتا ہے:ترجمان حکومتی کمیٹی
لاہور ( خصوصی رپورٹ ) حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ڈانواں ڈول ہیں ،جوڈیشل کمیشن کے قیام پر ڈیڈ لاک ، حکومت اور تحریک انصاف کے رہنمائوں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے سات دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی،عرفان صدیقی کیلئے مناسب نہیں کہ وہ مذاکرات کو تعطل کا شکار کریں۔پیر کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں، ہماری شرط ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، ہم حکومت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کیا پیش رفت بتاتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر کمیشن نہیں بننے جارہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر مذاکرات کررہی ہے‘ 2025تبدیلی کا سال ہے کٹھ پتلی حکومت پی ٹی آئی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کرلیا،حکومت نے تحریک انصاف کے مطالبے پر سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا امکان ہے۔دوسری طرف حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے اس خبر میں کوئی صداقت نہیں کہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈز کے جواب میں اپنا موقف تیا ر کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابققانونی ٹیم نے حکومت کو 9 مئی سے متعلق جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی رائے دی ہے۔ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کا موقف ہے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکتا، جوڈیشل کمیشن ان معاملات پر بنتا ہے جو عدالت میں زیربحث نہ ہوں، نو مئی سے متعلق عدالتوں میں چالان پیش ہو چکے ہیں، نو مئی کا کوئی سیاسی قیدی نہیں، پی ٹی آئی مطالبات کا حقائق سے تعلق نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے تحریری جواب میں کہا گیا 26 نومبر سے متعلق لاپتہ افراد کی فہرست اور گرفتار افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں، گرفتار افراد کے نام اور تفصیلات نہ ہونے تک رہائی کیلئے کیسے کوئی اقدام کیا جاسکتا ہے؟۔ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی آئندہ چند دنوں میں سپیکر کو تحریری جواب پیش کر دے گی، سپیکر حکومتی جواب موصول ہونے پر مذاکرات کیلئے چوتھے اجلاس کا فیصلہ کریں گے۔سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے 'ایکس پر جاری بیان میں کہاہے ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی اس خبر میں کوئی صداقت نہیں کہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈز کے جواب میں اپنا موقف تیا ر کرلیا ہے۔ یہ خبر اور اس میں بیان کی گئی تمام تفصیلات بے بنیاد ہیں۔ اس وقت حکومتی کمیٹی میں شامل سات جماعتیں باہمی مشاورت اور اپنی اپنی قیادت سے رہنمائی حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔ حتمی جواب تیار کرنے میں ایک ہفتہ مزید لگ سکتا ہے۔