حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کرانے اور ڈیڈ لاک کے خاتمہ کیلئے سربراہ جے یو آئی میدان میں آ گئے

فضل الرحمن حکومت ، اپوزیشن مفاہمت کیلئے سرگرم 
 ملک انارکی سے بچانے کیلئے سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا : گوہر، بانی سے ملاقات ضروری :علامہ ناصر ،محمود اچکزئی کا رابطہ ، اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت سے مذاکرات سے متعلق اجلاس بلانے کی تردید کردی 
 اسلام آباد ،پشاور(بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کرانے اور ڈیڈ لاک کے خاتمہ کیلئے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی متحرک، کردار ادا کرنے کو تیار ہوگئے،ادھر اپوزیشن قائدین نے حکومت سے مذاکرات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کیساتھ ملاقات سے مشروط کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت سے مذاکرات سے متعلق کوئی اجلاس بلانے کی تردید کردی۔تفصیلات کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی ہے۔ کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے مصالحانہ کردار کیلئے رضامندی، پیش شرائط سے وزیراعظم کو آگاہ کردیا اورخصوصی پیغام بھی پہنچایا،مولانا فضل الرحمن نے ثالث بننے کیلئے فریقین کو اپنی بنیادی شرائط سے آگاہ کرتے کہا ہے کہ پہلے وہ جائزہ لیں گے کہ دونوں فریق مسئلے کے حل میں کتنے سنجیدہ ہیں،اگر فریقین ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کریں تو درمیانی راستہ نکل آئے گا تاہم اگر ڈیڈلاک برقرار رہا اور لانگ مارچ کے خلاف طاقت کا استعمال ہوا تو کچھ نہیں بچے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ٹیلی فونک رابط اور ملاقات بھی متوقع ہے۔ دوسری طرف ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ سے قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور آل پارٹیز کانفرنس پر مشاورت کی ، دونوں نیحکومت کیساتھ مذاکرات سے متعلق حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔ ادھر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے رابطے کی تردید کردی ۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری جماعت کی کوشش ہے کہ بہتری کی طرف جائیں اور جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم اگر معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا ، کسی بھی اقدام کیخلاف جواب دینے کیلئے پی ٹی آئی نے صف بندی کر رکھی ہے،ہماری جماعت خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھی حالانکہ وہ اپنے لیڈر سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات میں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ اتحاد میں ہوں اور انھیں اتحاد میں شامل کرنے کی بڑی کوششیں کیں ، میرا مولانا فضل الرحمن سے کوئی رابطہ ہوا نہ ہی ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، اس وقت ڈیڈ لاک ہے اور چیزیں بہتری کی طرف نہیں جا رہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ حالات کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ، پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا تو صوبے میں تنائو بڑھے گا۔ صوبہ پہلے ہی بہت گھمبیر صورتحال سے گزر رہا ہے، اختیارات نام کی کوئی چیز نہیں، پہلے ہی غیر اعلانیہ گورنر راج ہے،دہشتگردی عروج پر ہے، یہ وقت نہیں کہ ایسے اقدامات کئے جائیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ عدلیہ، پارلیمان اور اسمبلی پر لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ، اگر نظام اسی طرح چلانا ہے تو واقعی وقت آگیا ہے اسے ری سیٹ کرنے پر غور کیا جائے، صوبائی وزیرفضل شکور کواٹھایا گیا جوانتہائی افسوسناک بات ہے، آج 18 واں دن ہے لیکن ان کے اہلخانہ کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تاہم عدالتوں میں ہفتے ہفتے کی تاریخیں ملتی ہیں،ہر پاکستانی اور ہرصوبے کے وزیراعلیٰ کو سوچنا چاہیے کہ اگر آج یہ خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے تو کل سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی ہو سکتا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور جبری گمشدگیاں ختم ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت پرزوردیا کہ بڑی ایمانداری، خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ بغیرکسی شرط کے مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے، اب بھی وقت ہے قوم اوراقتدارمیں موجود لوگ اس معاملے کو دیکھیں،حکومت اور اپوزیشن دونوں کی گاڑیاں کچے میں پھنسی ہوئی ہیں، سوال یہ ہے کہ اس گاڑی کو کچے سے نکال کر موٹروے پر کیسے لایا جائے ،عوام کی گاڑی موٹروے پر چڑھنی چاہیے اور جمہوریت کی پٹڑی پر عوام کو چلنا چاہیے، نظام کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انا کو جانے دیا جائے اور کامن سینس کو غالب آنے دیا جائے ، اگر اس برائے نام بچی کھچی جمہوریت کو بچانا ہے تو انا کو جانے دینا ہوگا ، ملک کو انارکی کی طرف جانے سے روکنے کیلئے انا کوایک طرف رکھ کر مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کیلئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ناگزیر ہے کیونکہ بانی کی توثیق کے بغیر مذاکرات بے معنی ہوں گے۔ بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہونے والی ملاقات کی تصدیق کرتے انہوں نے کہا کہ ملاقات کا مقصد فریقین کے درمیان کچھ مشترکہ نکات اور ایجنڈا تیار کرنے کی کوشش کرنا تھا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد ان کا کسی بھی سرکاری شخصیت سے کوئی رابطہ نہیں رہا، مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کا مقصد انہیں صرف آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینا تھا۔ ادھر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے نجی ٹی وی سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ حکومت یا مولانا فضل الرحمن کی جانب سے مذاکرات پر کوئی رابطہ نہیں ہوا، ایک روز قبل مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ پر ملاقات اے پی سی پر بات چیت کیلئے ہوئی تھی۔ اپوزیشن اتحاد کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات سے متعلق کوئی اجلاس نہیں بلایا ، مذاکرات سے متعلق مولانا یا حکومت کی طرف سے کوئی پیغام بھیجا گیا نہ ملا،مذاکرات کا مکمل اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے۔پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرت سے متعلق کوئی زوم اجلاس بلایا نہ مجھے اس کا علم ہے۔