سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف میرٹ کے برعکس بھرتیوں کے مقدمے کی سماعت اینٹی کرپشن کورٹ میں ہوئی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے پرویز الہٰی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا، تاہم وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے جس کے باعث فرد جرم عائد نہیں ہو سکی۔عدالت نے پرویز الہٰی کے پیش نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں 4 فروری کو دوبارہ عدالت میں طلب کیا تاکہ فرد جرم عائد کی جا سکے۔یہ مقدمہ ان بھرتیوں سے متعلق ہے جو چوہدری پرویز الہٰی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران میرٹ کے برعکس کی گئی تھیں، اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔پرویز الہٰی پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی بنیادوں پر افسران اور دیگر افراد کی بھرتیاں کیں، جس سے قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑا اور میرٹ کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس مقدمے کی سماعت میں دیگر ملزمان بھی شامل ہیں، اور اگر پرویز الہٰی پر فرد جرم عائد ہو جاتی ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی مزید تیز ہو سکتی ہے۔