ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے اور آئندہ 2 سے 3 روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے۔
انہوں نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ دستاویز اعلیٰ ایرانی قیادت کی منظوری ملنے کے بعد امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کر دی جائے گی۔عراقچی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران نے نہ تو جوہری افزودگی روکنے کی پیش کش کی ہے اور نہ ہی امریکہ نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا مرکز جوہری پروگرام کے پُرامن استعمال پر ہے اور اس میں کوئی فوجی حل شامل نہیں۔دوسری جانب، برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنانے اور ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کریں گے۔ خبر کے مطابق، امریکہ ایران پر ’محدود‘ حملے کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی بھی کوشش کرے گا۔